تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 78

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ سے منسوخ آیات مراد ہیں (تفسیر البحر المحیط زیر آیت ’’ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى‘‘)۔مگر یہ درست نہیں اس لئے کہ جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے وہ یا تو قرآن کریم میں آج تک لکھی ہوئی موجود ہیں یا اگر اس عقیدہ کے رکھنے والوں کے قول کے مطابق اگر وہ منسوخ التلاوۃ بھی ہیں تو آج تک تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں۔مگر خدا تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ وہ بھول جائیں گی۔جب وہ سب کی سب قرآن کریم میں یا تفسیروں میں موجود ہیں تو بھول کس طرح جائیں گی۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ بھی ہے۔ہم قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کو قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو قرآن کریم میں ناسخ منسوخ کے قائل ہیں میں ان کا ذکر کر رہا ہوں۔کہ ان کا یہ استدلال درست نہیں۔اس لئے کہ فَلَاتَنْسٰۤى کے ساتھ اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ کا ـذکر کیا گیا ہے اور نسخ اوّل تو بھولنے کو نہیں کہتے۔پھر جب کہ وہ سب آیات جن کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے یا تو قرآن کریم میں یا تفاسیر میں موجود اور لکھی ہوئی ہیں تو وہ بھول کس طرح گئیں۔واقعہ بھی یہ ہے کہ وہ سب اسی طرح موجود ہیں اور کسی کو بھی بھولی نہیں۔پس یہ معنے تو درست نہیں ہو سکتے۔بعض نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ شاذونادر کے طور پر تُو بھول جائے گا اور پھر تجھے یاد آجائے گا لیکن یہ بھی درست نہیں ہو سکتا۔(تفسیر البحر المحیط زیر آیت ’’ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى‘‘)اس لئے کہ شاذونادر کا بھولنا بھی بھولنا ہی ہوتا ہے اور اگر وہ یاد آجاتا ہے تو وہ بھولنا کہلا ہی نہیں سکتا۔پھر قرآن کریم تو اسی وقت سب کو سنا دیا اور لکھا دیا جا تا تھا۔یہ ہو کس طرح سکتا تھا کہ شاذونادر کے طور پر اس کا کوئی حصہ بھول جائے۔بعض کہتے ہیں کہ فَلَاتَنْسٰۤى میں الف فاصلہ کا ہے اور اصل میںنہی ہے یعنی فَلَا تَنْسَ تو بھولیو نہیں۔مگر یہ تاویل بعید اور خلافِ محاورۂ زبان ہے۔بعض مفسرین نے یہ معنے کئے ہیں کہ یہاں اِلَّا بمعنے نفی ہے کیونکہ عرب کبھی قلت کا لفظ نفی کے لئے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔اِلَّا قَلِیْلًا سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بالکل نہیں۔اسی طرح اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ سے مراد یہی ہے کہ تو بالکل نہیں بھولے گا(تفسیر الکشاف زیر آیت ’’ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى‘‘)۔مگر یہ تاویل درست نہیں کیونکہ نفی کے معنے اِلَّا اسی وقت دیتا ہے جب کہ اس کے بعد کوئی لفظ قلت پر دلالت کرتا ہو۔مگر یہاں تو ایک مضمون بعد میں بیان کیا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی مشیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔زمخشری نے کشاف میں یہ معنے کئے ہیں کہ اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ کا اس آیت میں کوئی مفہوم نہیں یعنی اس سے مراد کوئی استثناء نہیں بلکہ کُلّی طور پر نسیان کی نفی مراد ہے اور یہ ایسی ہی