تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 77
قرآن کریم ہر قسم کی تحریف اور ہر قسم کے تغیّر و الحاق سے محفوظ رہا۔یہ چھ ایسے سامان ہیں جو دنیا کی اور کسی قوم کی الہامی کتاب کو میسر نہیں آئے۔صرف قرآن کریم کو ہی اللہ تعالیٰ نے یہ سامان عطا فرمائے ہیں۔پس سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى میں اس سوال کا جواب آ گیا کہ ہم کیوں اسے قولِ فصل کو تسلیم کریں اور کیوں یہ نہ مانیں کہ یہ کتاب صرف وقتی طور پر کامل کتاب ہے۔ایک زمانہ گذرنے کے بعد پھر کوئی اور کتاب آ جائے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کتاب کے بعد اور کوئی کتاب نہیں آ سکتی۔ہمارا اس کتاب کی حفاظت کے متعلق وعدہ کرنا اور پھر اس کی حفاظت کے لئے ہر قسم کے سامانوں کا پیدا کر دینا خود اس بات کا ثبوت ہو گا کہ اب الٰہی منشاء یہی ہے کہ یہ کتاب قیامت تک قائم رہے۔اگر اللہ تعالیٰ اس کتاب کو بھی سابق الہامی کتب کی طرح منسوخ کر دینے والا ہوتا تو وہ اس کو بھی پہلی کتابوں کی طرح بگڑنے دیتا اور وہ اس کی حفاظت کے سامان مہیا نہ کرتا۔مگر خدا نے اس کو بگڑنے نہیں دیا کیونکہ یہ مستقل فائدہ پہنچانے والی کتاب ہے۔اور جس چیز کا فائدہ مستقل ہو وہ الٰہی قانون کے ماتحت فنا نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ (الرّعد:۱۸) جو چیز لوگوں کے لئے نفع رساں ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اس کو زمین میں قائم رکھتا ہے۔چونکہ قرآن کریم کی حفاظت کی گئی ہے اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ کتاب دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گی۔کبھی منسوخ یا ناقابلِ عمل نہیں ہو گی۔اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اگر اس کتاب نے ہمیشہ رہنا ہے تو پھر بتائیے کسی موعود کی کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اگلے حصہ میں دیا ہے۔اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰىؕ۰۰۸ سوائے اس کے جو اللہ (بھلانا) چاہے۔وہ یقیناً ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جو مخفی ہو۔تفسیر۔اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ کی تشریح سابق مفسرین کے نزدیک اس آیت کے متعلق بوجہ ان معنوں کے نہ کرنے کے جن کو میں نے اوپر بیان کیا ہے مفسرین کو سخت دقت پیش آئی ہے اور وہ حیران ہوئے ہیں کہ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ کے اس جگہ کیا معنے ہوئے۔کیا قرآن کا کچھ حصہ اڑ جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے فَلَاتَنْسٰۤى کے ساتھ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ بھی کہہ دیا۔اس دقت کو حل کرنے کے لئے بعض نے تو کہہ دیا ہے کہ