تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 56

اس کو سڑی گلی چیز کر دیتا ہے اور وہ اَحْوٰى ہو جاتی ہے۔یعنی نہ صرف یہ کہ وہ سڑی ہوئی ہوتی ہے بلکہ گل سڑکر سیاہی مائل ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز سڑ تو جاتی ہے مگر اپنا رنگ نہیں چھوڑتی۔لیکن کبھی اس میں اتنی سڑانڈ پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنا رنگ بھی چھوڑ دیتی ہے۔اگر صرف غُثَآءً کا لفظ استعمال کیا جاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ وہ بے کار اور گندی چیز ہو جاتی۔مگر غُثَآءً کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اَحْوٰى کا لفظ بھی بڑھا دیا یہ بتانے کے لئے کہ وہ اتنی گندی اور خراب ہو جاتی ہے کہ اپنا رنگ بھی چھوڑ دیتی ہے۔جب دنیا میں خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ بعض اشیاء اتنی ناقص اور خراب ہو جاتی ہیں تو تمہارا یہ خیال کر لینا کہ اگر خدا تعالیٰ نے تعلیم دینی ہوتی تو قولِ فصل ہی دیتا ایسی تعلیم کیوں دیتا جو بدل جائے۔اور ایک زمانہ کے بعد خراب ہو جائے کس طرح درست ہو سکتا ہے۔تم غور کرو اور سوچو کہ چارہ خدا نے پیدا کیا ہے یا کسی اور نے۔سبزیاں جو تم استعمال کرتے ہو ان کو خدا نے پیدا کیا ہے یا کسی اور نے۔پھر کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہی گھاس اور یہی سبزیاں کچھ عرصہ کے بعد اس طرح گل سڑ جاتی ہیں کہ ان میں بدبُو پیدا ہو جاتی ہے۔کئی قسم کی گیسیں ان میں سے اٹھنے لگتی ہیںاور مختلف قسم کی بیماریوں کا وہ موجب بن جاتی ہیں۔جب یہ سبزیاں اچھی حالت میں ہوتی ہیں تو اس وقت انہیں جانور کھاتے ہیں۔انسان استعمال کرتے ہیں۔ان کے جسم ان سے نشوونما حاصل کرتے ہیں۔ان کے دماغ ان سے طاقت حاصل کرتے ہیں اور وہ ان سبزیوں سے کئی قسم کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔مگر پھر یہی سبزیاں ایک دن سڑ گل کر مختلف قسم کی بیماریوں اور ملک کی صحت کو برباد کرنے کا موجب بن جاتی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے سبزیاں ترکاریاں پیدا کی ہیں جو سڑتی گلتی اور خراب ہوکر نفع کی بجائے نقصان کا موجب بنتی ہیں اور اس سے خدا تعالیٰ کی خدائی میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔اگر تم یہ نہیں کہتے کہ یہ چیزیں خدا تعالیٰ نے پیدا نہیں کیں بلکہ کسی اور نے کی ہیں۔بلکہ تم کہتے ہو یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدرت ہے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کی قدرت ہے لمبے فوائد رکھنے والی اشیاء کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ ہے۔اور وہ سبزیاں جو چند دنوں کے بعد ہی سڑ گل جاتی ہیں ان کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ ہے تو روحانی زندگی میں تمہیں کیوں اعتراض پیدا ہوتا ہے اور کیوں تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ بعض چیزیں عارضی زندگی رکھنے والی ہوتی ہیں اور بعض مستقل۔کوئی تعلیم تھوڑے زمانہ کے لئے ہوتی ہے اور کوئی تعلیم لمبے عرصہ کے لئے۔خدا تعالیٰ کی مخلوق میں اس کا ثبوت موجود ہے کہ جہاں اس نے بعض چھوٹی چھوٹی چیزیں مثلاً ترکاریاں وغیرہ پیدا کی ہیں جو چند دنوں کے بعد ہی گل سڑ جاتی ہیں وہاں اس نے ایسے درخت بھی پیدا کئے ہیں جو سینکڑوں سال کی زندگی رکھتے ہیں۔اور بعض اشیاء تو ایسی ہیں کہ جب تک نسل انسانی رہے گی اس وقت تک وہ چیزیں بھی قائم رہیں گی۔