تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 43
فائدہ یہ بھی ہے کہ چونکہ اس کے اندر لچک پائی جاتی ہے اس وجہ سے آواز اس کے ذریعہ سے ایک لہر پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے آواز زیادہ عمدگی سے سنی جا سکتی ہے۔یہ ایک موٹا فائدہ کان کی لَو کا ہے۔اور بھی کئی فوائد ہوں گے جو اپنے اپنے وقت ظاہر ہوتے رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اسے بے عیب بنایا ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جس کی کوئی نہ کوئی غرض نہ ہو۔ہر چیزاللہ تعالیٰ نے حکمت اور انسانی فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پیدا کی ہے۔پھر خَلَقَ فَسَوّٰى کے یہ بھی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور اس کی قوتوں میں اس نے ہر لحاظ سے اعتدال پیدا کیا ہے۔ایک طرف اگر اس نے انسان میں غصہ کی طاقت رکھی ہے تو اس کے بالمقابل اس نے نرمی کی قوت بھی اس میں رکھ دی ہے۔اگر ایک طرف اس میں انتقام کی قوت پائی جاتی ہے تو دوسری طرف عفو کی قوت بھی اس میں موجود ہے۔اگر ایک طرف اس میں شہوت کا مادہ پایا جاتا ہے تو دوسری طرف عفت کا مادہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس میں رکھ دیا ہے۔یہ دونوں بظاہر متضاد قوتیں مل کر انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی کا موجب ہوتی ہیں۔اگر ایک دوسرے کے بالمقابل اس قسم کی متضاد قوتیں انسان میں موجود نہ ہوتیں تو وہ کبھی بااخلاق نہیں کہلا سکتا تھا۔جس شخص کے اندر شہوت نہیں وہ کبھی عفیف نہیں کہلا سکتا۔جس شخص کے اندر غصہ نہیں وہ معاف کرنے والا نہیں کہلا سکتا۔اور جس شخص کے اندر نرمی نہیں وہ غیور نہیں کہلا سکتا۔اخلاق کی حکومت اسی شخص پر ہوتی ہے جس میں دونوں قابلیتیں پائی جاتی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی نامرد ہو تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ بڑا عفیف ہے یا اگر کوئی شخص نابینا ہو تو اس کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کبھی بدنظری نہیں کرتا اس لئے کہ اس کی نظر ہے ہی نہیں۔اگر اس کی نظر موجود ہوتی اور پھر وہ بدنظری سے محفوظ رہتا تو یہ بے شک قابلِ تعریف بات تھی۔لیکن جب کہ اس کی آنکھیں ہی نہیں تو اسے پاک نظر والا کس طرح کہا جا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک دونوں قسم کی قوتیں انسان میں نہ پائی جائیں اور ان قوتوں میں وہ صحیح توازن قائم نہ کرے اس وقت تک وہ اخلاقی زندگی بسر کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔پس خَلَقَ فَسَوّٰى کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ہم نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور اس کے دائیں بائیں متضاد قوتیں رکھی ہیں اور اس کے اندر یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ وہ ان قوتوں کے درمیان میں اپنے آپ کو اس طرح کھڑا رکھے جس طرح ترازو کے دو پلڑے آپس میں برابر ہوتے ہیں۔اگر ایک طرف ہم نے اس میں شہوت کا مادہ رکھا ہے تو دوسری طرف ہم نے عفت کا مادہ بھی اس میں رکھ دیا ہے۔ایک طرف پاکیزگی کا مادہ ہم نے پیدا کیا ہے تو