تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 352

نیک اعمال کرتے اور ان کے بعد مومن بن جاتے۔یعنی ان اعمال کا نتیجہ یقیناً یہ نکلتا۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان بھی ان کو مل جاتا۔کیونکہ نیک نیتی کے ساتھ کیا ہوا عمل ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے حکیم بن حزام نے جو نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپؐکے دوست تھے۔آپؐسے پوچھا کہ کفر میں جو صدقہ وخیرات میں نے کیا تھا کیا وہ ضائع گیا؟ تو آپ نے فرمایا اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ مِنْ خَیْرٍ (الصحیح البخاری کتاب الادب باب من وصل فی الشـرک ثم اسلم) ضائع کیوں گیا۔اسی عمل کے نتیجہ میں تو تم کو دولت اسلام حاصل ہوئی۔پھر فرماتا ہے وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ پہلے معنوں کے مطابق اس جملہ کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر ان اعمال کے ساتھ ساتھ انہیں ان اعمال کی خوبیوں پر ایمان بھی نصیب ہوتا۔اور یہ لوگ خود ہی وہ اعمال نہ بجا لاتے۔بلکہ دوسروں کو بھی ان کے استقلال کے ساتھ بجا لانے کا حکم دیتے اور رحم کرنے کی تلقین کرتے رہتے تو ان کے لئے بابرکت ہوتا۔تَوَاصَوْا کے معنے بار بار تاکید کرنے کے ہیں۔اور صبر کے معنے اس جگہ استقلال سے کام کرنے کے ہیں۔اور مَرْحَـمَۃ کے معنے رحم کے ہیں۔دوسرے معنوں کے رو سے اس جملہ کے یہ معنے ہوں گے کہ ان نیک اعمال کے بعد انہیں ضرور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق ملتی۔اور نیکی کا جذبہ اتنا قوی ہو جاتا کہ اب تو یہ لوگ ظلم کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لا کر یہ خود ظلم شو ق سے برداشت کرتے اور دوسروں کو ظلم کو صبر سے برداشت کرنے کی تلقین کرتے رہتے۔باوجود ظلموں کو برداشت کرنے کے اپنے دشمنوں پر بھی رحم کرتے اور دوسرے دوستوں کو بھی نصیحت کرتے کہ دشمن کے ظلم پر غصہ میں نہ آؤ۔بلکہ باوجود اس کے ظلم کے پھر بھی رحم سے کام لو۔اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ۰۰۱۹ یہی لوگ تو برکت والے ہوں گے۔تفسیر۔اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ کے دو معنے مَیْمَنَۃ کے معنے برکت کے بھی ہیں اور مَیْمَنَۃ کے معنے دائیں کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن جن لوگوں کے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ عزت پائیں گے اور جنت کے حقدار ہوں گے۔اس مناسبت سے اَصْـحَابُ الْمَیْمَنَۃ کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ وہ لوگ جن میں اوپر کی باتیں پائی جائیں اور وہ احکامِ الٰہی