تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 350
يَّتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ۰۰۱۶ یتیم کو جو قریبی ہو۔تفسیر۔یتیم کےساتھ ذَا مَقْرَبَةٍ کے الفاظ لانے کی وجہ یہاں یتیم کے ساتھ ذَا مَقْرَبَۃٍ کے الفاظ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ قرابت والا یتیم بہرحال انسان کو اپنے پاس رکھنا پڑتا ہے اور اس کے خوردونوش کی ذمہ داری یا تعلیم اور لباس وغیرہ کے اخراجات انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یہ الگ امر ہے کہ کوئی شخص ان اخراجات کو طوعًا برداشت کرے یا کرہاً مگر بہرحال خاندانی ذمہ داریاں تقاضا کرتی ہیں کہ انسان اپنے قرابت دار یتیم کا خیال رکھے۔مگر فرمایا تمہاری تو یہ حالت ہے کہ تم ایسے یتیم کو بھی کھانا نہیں کھلاتے جو تمہارا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہاری حالت خطرناک حد تک گر چکی ہے۔اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ قریبی یتیم کو تو کھانا کھلانا چاہیے۔مگر دوسرے کو نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی اور یتیم کی پرورش تو الگ رہی۔تم سے تو اس بات کی بھی امید نہیں کی جا سکتی کہ تم اپنے قریبی یتیموں کی خبرگیری کرو گے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھو گے۔جب ایک قریبی ذمہ داری سے تم اس قدر لاپروا ہو تو دور کی ذمہ داری کے پورا کرنے کی طرف تمہاری توجہ ہی کہاں ہو سکتی ہے۔اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ۰۰۱۷ یا مسکین کو جو زمین پر گرا ہوا ہو۔تفسیر۔مِسْکِیْنًا ذَامَتْرَبَۃٍ کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ وہ مسکین جو خاک افتادہ ہو مگر اس کے مفہوم دو ہیں۔اوّل۔ایسا غریب جو مالی لحاظ سے بالکل ادنیٰ اور ذلیل حالت میں ہو۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں۔فلاں شخص تو مٹی میں مل گیا ہے۔یعنی اس کی نہایت ہی قابل رحم حالت ہے۔دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ ایسا مسکین جو مالی کمزوری کے ساتھ جسمانی طور پر بھی ایسا کمزور اور بیمار ہو کہ وہ چل پھر نہ سکتا ہو۔گویا اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رہتی کہ وہ امیروں کے دروازہ تک پہنچ کر سوال کر سکے۔کمزوری اس قدر بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ زمین پر لیٹا ہوا ہوتا ہے اور کوئی اس کا پُر سان حال نہیں ہوتا۔یا اتنا کمزور ہوجاتا ہے