تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 347
کوئی سی پی سے، کوئی بنگال سے، کوئی بہار سے، کوئی اڑیسہ سے، کوئی سرحد سے، کوئی ریاستوں سے۔غرض ایک اچھا خاصہ اجتماع ہندوستان کے تمام لیڈروں کا شملہ میں جمع ہو گیا۔جب ان لیڈر صاحب نے اتنا بڑا مجمع دیکھا تو چونکہ انہیں صرف اپنی لیڈری کو ظاہر کرنے کی عادت تھی۔کسی اور لیڈر کو لیڈر سمجھنا وہ اپنی ہتک سمجھتے تھے۔اس لئے جب وہ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار کہتے کہ ایسے اہم مسائل کے متعلق کبھی ہجوم فیصلہ نہیں کیا کرتے۔WE LEADERS OF LEADERS جو کچھ کہیں گے وہی آخری اور قطعی فیصلہ ہو گا۔یعنی ہم جو راہنماؤں کے راہنما ہیں اصل کام ہمارا ہے۔اتنے زیادہ لیڈروں کا کام نہیں کہ اکٹھے ہو کر فیصلہ کر دیں۔غرض میں نے دیکھا کہ ان پر یہ امر بڑا گراں گذرا کہ اتنی تعداد میں لوگوں کو کیوں لیڈر قرار دیا گیا۔حالانکہ وہاں کسی ایک قوم کے لیڈر جمع نہیں تھے۔بلکہ ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں سب کے نمائندے تھے۔جس طرح افراد کا دماغ بعض دفعہ اس رنگ میں بگڑ جاتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ قوموں میں بڑائی شروع ہو جاتی ہے اور پھر ان کی تسلی نہیں ہوتی جب تک کہ تمام قوموں کو اپنے مقابلہ میں غلام اور اچھوتوں سے بھی بد تر قرار نہ دے دیں۔ابھی چند دن ہوئے اخبارات میں بڑا شور اٹھا کہ پہلے تو اقبال جیسے لوگوں کو علامہ لکھا جاتا تھا۔مگر اب یہ حالت ہے کہ ہر وہ آدمی جو اردو بھی صحیح پڑھ نہیں سکتا۔اس کے نام کے ساتھ علامہ لکھ دیا جاتا ہے۔چنانچہ لدھیانہ میں ایک جلسہ ہوا تو ہر مقرر کے نام کے ساتھ لکھا گیا کہ یہ فلاں علامہ تھے اور وہ فلاں علامہ تھے حالانکہ حالت یہ تھی کہ وہ صحیح طور پر اردو بھی نہیں جانتے تھے۔اس قسم کی وبا کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جو لوگ واقعہ میں علامہ ہوتے ہیں۔ان کے لئے کوئی اور لفظ تجویز کیا جاتا ہے اور دوسروں کو ان کے مقابل میں گرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح نہ صرف منافرت کی ایک وسیع خلیج چھوٹوں اور بڑوں میں حائل ہو جاتی ہے۔بلکہ ذہنیتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور باقی لوگ ہمارے غلام ہیں۔ہم جب بچے تھے۔تو میں نے اور میر محمد اسحٰق صاحب مرحوم نے حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ سے پڑھنا شروع کیا۔استاد کا یوں بھی دلوں میں زیادہ اعزاز ہوتا ہے۔مگر حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ کو تو جماعت میں بھی ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اس وقت جب بھی یہ بات کہی جاتی کہ مولوی صاحب نے یہ کہا ہے تو اس سے مراد یا حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ ہوا کرتے تھے یا حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مراد ہوا کرتے تھے۔جب بھی