تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 346

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ۰۰۱۳فَكُّ رَقَبَةٍۙ۰۰۱۴ اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ چوٹی کیا (اور کس چیز کا نام) ہے۔(چوٹی پر چڑھنا غلام کی)گردن چھڑانا ہے۔حلّ لُغات۔فَکُّ رَقَبَۃٍ۔فَکٌّ کے معنے کھول دینے کے ہوتے ہیںاور رَقَبَۃٌ کے معنے گردن کے ہیں۔پس فَکُّ رَقَبَۃٍ کے معنے ہوئے گردن آزاد کرنا۔یعنی کسی غلام کو آزاد کرانے میں مدد دینی۔تفسیر۔اس آیت کے دو۲ معنے ہیں۔ایک تو یہ کہ انہیں چاہیے تھا وہ غلام آزاد کروانے کی کوشش کرتے۔اگر یہ ان غلاموں کو جوان کے پاس ہیں آزاد کروانے کی کوشش کرتے تو یہ خود بھی قومی لحاظ سے آزادی حاصل کر سکتے تھے۔مگر یہ الٹا غلامی کو اور بھی رائج کرنے لگیں گے اور مسلمان غلاموں پر ظلم ڈھانے لگ جائیں گے۔درحقیقت غلاموں کی آزادی کا اسلام نے شروع سے ہی اس لئے حکم دیا ہے کہ قومی ترقی کے لئے غلاموں کا آزاد کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔مساوات قائم کئے بغیر اور چھوٹوں بڑوں کا امتیاز مٹائے بغیر دنیا میں کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کیا کرتی۔جب تک یہ امتیاز دنیا میں نظر آتا رہے گا کہ ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا اس وقت تک دنیا حقیقی ترقی نہیں کر سکتی۔کبھی کوئی پائدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک دنیا میں یہ فتنے موجود رہیں گے اور جب تک ان کے انسداد کے لئے متحدہ مساعی عمل میں نہیں لائی جائیں گی اس وقت تک ترقی کی تمام تدابیر بے کار ثابت ہوں گی۔اسی امتیاز کا نتیجہ غلامی ہے جس کی بیخ کنی اسلام کا اولین مقصد ہے اور جس کے خلاف وہ شروع دن سے اپنی آواز کو بلند کر رہا ہے اگر ان امتیازات کو قائم رہنے دیا جائے تو بڑے آدمی اپنے لئے اور عزت چاہتے ہیں۔پھر اور عزت کے طلب گار ہوتے ہیں۔پھر اور عزت کا حصول ان کو بے قرار رکھتا ہے۔یہاں تک کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب وہ اپنے سوا کسی اور کو بڑا سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔میں نے دیکھا ہے ہندوستان کے ایک بہت بڑے لیڈر ہیں۔میں ان کا نام نہیں لیتا۔ان کے دماغ میں یہ خیال سمایا ہوا ہے کہ ان سے بڑا لیڈر اور کوئی نہیں۔یہی دُھن انہیں آٹھوں پہر رہتی ہے اور اپنی بڑائی اور اعزاز کا خیال انہیں ہر وقت دامنگیررہتا ہے۔ایک دفعہ شملہ میں ہندوستان کے بڑے بڑے لیڈروں کی ایک مجلس منعقد ہوئی۔مجھے بھی تار دے کر بلایا گیا۔گاندھی جی نے اس وقت مرن برت رکھا ہوا تھا اور انہو ں نے کہا تھا کہ اگر ہندو مسلم اتحاد نہ ہوا تو میں بھوکا مر جاؤں گا چونکہ یہ بڑا بھاری مسئلہ تھا۔سارے ہندوستان سے مختلف اقوام کے لیڈر شملہ میں جمع ہوئے۔میں سمجھتا ہوں ان کی تعداد سو ڈیڑھ سو کے قریب ہو گی۔کوئی بمبئی سے آیا، کوئی مدراس سے،