تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 30

میں اس کا ذکر کر دیا گیا۔یہ نہیں ہوا کہ بدی کی ایجاد سے پہلے الٰہی کلام میں کس بدی کا ذکر کر دیا گیا ہو۔اگر ابتدا میں ہی کامل شریعت کے نزول کے ساتھ ہر قسم کی بدیوں کا ذکر کر دیا جاتا تو وہ جرائم جو ہزاروں سال بعد پیدا ہوئے ان کی بنیاد اسی وقت پڑ جاتی اور دنیا اخلاقی اور روحانی اعتبار سے تباہ ہو جاتی۔پھر بعض ربوبیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خود غرضی کے ماتحت ہوتی ہیں۔انسان خوشامدکے لئے یا جھوٹی نیک نامی حاصل کرنے کے لئے دوسرے سے معاملہ کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ ایسا نہیں کرتا۔یا انسان بعض دفعہ بے موقع اور بےمحل کام کر دیتا ہے مگر خدا کی ربوبیت میں کوئی نقص نہیں پایا جاتا۔یہی مضمون ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ تیرے رب کی ربوبیت ایسی نہیں جو اپنے اندر کسی قسم کا نقص رکھتی ہو۔پس گو نام کے لحاظ سے صفات الٰہیہ میں دوسروں کو بھی ناقص طور پر اشتراک حاصل ہے مگر حقیقتاً صفات الٰہیہ دوسروں کی صفات سے بالکل مغائر ہیں۔جیسے رب ہونے کے لحاظ سے لوگوں کو ایک قسم کا اشتراک حاصل ہے یا رحیم ہونے یا عالم ہونے یا مالک ہونے میں بھی وہ ان ناموں میں مشترک ہوتے ہیں۔لیکن یہ اشتراک صرف ظاہر میں ہو گا۔حقیقت دونوں کی جداگانہ ہوگی۔ناموں میں اشتراک محض اس لئے ہے کہ اس کے بغیر انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ نہیں سکتا تھا اسی لئے خدا تعالیٰ کی صفت سے ملتا جلتا نام اس کا رکھ دیا ورنہ انسان کی صفت بالکل اور رنگ کی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت اور رنگ کی۔یہ طریق صرف تقریب تفہیم کے لئے اختیار کیا گیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت اور قسم کی ہے اور بندے کی ربوبیت اور قسم کی۔خدا کی رحیمیّت اور قسم کی ہے اور بندے کی رحیمیّت اور قسم کی۔خدا کی مالکیّت اور قسم کی ہے اور بندے کی مالکیّت اور قسم کی۔خدا اور بندے کا اگر بعض صفات کے لحاظ سے ایک قسم کا نام رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکے۔اگر ہم انسان کو بھی مالک کہتے ہیں اور خدا کو بھی مالک کہتے ہیں تو اس کا مفہوم صرف اس قدر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میں جو مالکیّت کی صفت پائی جاتی ہے اس سے ایک ناقص تشابہ انسان کو بھی حاصل ہے نہ کہ ویسی ہی صفت انسان کو حاصل ہے۔کیونکہ بندے کی صفت ناقص ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت کامل ہوتی ہے۔پس فرمایا سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى تیرا رب جو اعلیٰ ہے یعنی اس کی ربوبیت سب دوسروں سے بلند اور ارفع ہے اس کی تسبیح کر یعنی خدا تعالیٰ کے صفاتی اسماء میں شریک ہونے کی وجہ سے لوگوں کے بعض ناقص افعال کی بناء پر لوگ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی کئی قسم کے شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے کام ایک جیسے ہیں۔تُو ان شبہات کا ازالہ کر اور خدا تعالیٰ کی ربوبیت پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کو دور کر۔یہ ایک لطیف اور وسیع مضمون ہے کہ