تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 322

(ابراہیم:۳۸) یعنی اے میرے رب میں نے اپنی اولاد کو ایک وادئ غیر ذی زرع میں لا کر بسایا ہے۔محض اس لئے کہ وہ تیری عبادت کریں اور تیرے دین کی خدمت میں اپنی عمر بسر کر دیں تو اپنے فضل سے لوگوں کے قلوب کو ان کی طرف پھیر دے اور انہیں اپنے پاس سے رزق دے تاکہ یہ تیرے شکرگذار بندے بنیں۔پس اوّل تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک رسول کی بعثت کے متعلق جو دعائیں کیں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ان دعاؤں میں شامل تھے۔کیونکہ انہوں نے اکٹھے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔دوسرے وہ ان دعاؤں میں اس لحاظ سے بھی شریک تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیلؑ کی نسل سے ہی ان وعدوں کے پورا ہونے کی دعا کی تھی۔یہی وجہ ہے کہ وَالِد اور وَلَد دونوں کی اکٹھی شہادت کا اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم اس بات کی شہادت کے طور پر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔وَالِد اور وَلَد کو تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسمٰعیل کی نسل میں سے ایک رسول کی بعثت کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی تھیں۔اگر وہ دعائیں اب تک پوری نہیں ہوئیں تو بتاؤ ابراہیم تمہارے نزدیک جھوٹا ہوا یا نہیں۔پھر اسمٰعیل کی طرف دیکھو کہ اس نے ایک بہت بڑی قربانی کی۔اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وادئ غیر ذی زرع میں بس کر اپنی جان کو ہلاک کرنے کے لئے تیار ہوں۔وہ خدا کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو گیا۔اس نے اپنے اوپر ایک بہت بڑی موت وارد کر لی۔محض اس لئے کہ خدا کے وعدے اس متبرک مقام کی نسبت اس کی نسل کے ذریعہ سے پورے ہو جائیں۔اب اگر وہ شخص پیدا نہیں ہوا جو اس مکہ کا مقصود ہے تو بتاؤ اسمٰعیل جھوٹا ہوا یا نہیں۔جھوٹی قربانی ہی ایک ایسی چیز ہے جو کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔ورنہ سچی قربانی اپنا پھل ضرور پیدا کیا کرتی ہے۔پس اگر اسمٰعیل نے سچی قربانی کی تھی اور تم بھی اس قربانی کی عظمت سے انکار نہیں کر سکتے تو تمہیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس قربانی کے نتیجہ میں ضرور ایک کامل انسان پیدا ہونا چاہیے اسی طرح اگر تم ایک ایسے کامل انسان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہو جو ابراہیمی دعا کے نتیجہ میں اسمٰعیلی نسل میں سے پیدا ہوا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے نزدیک ابراہیمؑ کی قربانی بھی نعوذ باللہ غیر مقبول تھی اور اسمٰعیل کی قربانی بھی نعوذ باللہ مردود تھی۔اگر اس کے اندر قربانی کرتے وقت تقویٰ ہوتا تو کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے تقویٰ کو ضائع کرتا اور اس کی قربانی کو ردّ کر دیتا۔بہرحال دونوں میں سے ایک بات ضروری ہے۔یا تم تسلیم کرو کہ ابراہیمؑ کی دعا نعوذ باللہ ضائع چلی گئی اور اسمٰعیلؑ کی قربانی دنیا میں کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکی اور یا پھر یہ تسلیم کرو کہ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ دونوں نے سچی قربانی کی تھی اور دونوں کی قربانی جس پھل کا تقاضا کرتی تھی وہ دنیا میں پیدا ہو گیا