تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 321
اور آرام سے قومی ترقی حاصل ہو جائے گی اور تمہیں کچھ کرنا نہیں پڑے گا اخلاقی اور مذہبی اور سیاسی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر ترقی نہیں ملتی بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی اس طرح کیا ہے کہ وہ محنت اور مشقت سے ترقی کرتا ہے۔چنانچہ ہم اس بات کی دلیل کے طور پر مکہ کو پیش کرتے ہیں۔ایسی حالت میں کہ تو اس میں حِلٌّ ہے۔اور ہم ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو بھی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان آیات کے ایک حصہ کی تشریح اوپر گذر چکی ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ لغت کے لحاظ سے حِلٌّ کے کئی معنے ہیں۔ان سب معنوں کے لحاظ سے مکہ اس بات کا ایک یقینی ثبوت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے۔اسی طرح لَیَالٍ عَشْرٍ کی تشریح کرتے ہوئے بتایا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ کی تکالیف کی کیا نوعیت ہو گی اور وہ کس کس رنگ میں مسلمانوں کو مبتلائے آلام کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ بات بھی بتائی جا چکی ہے کہ فجر کا ظہور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس رنگ میں ہو گا اور کس طرح کفار کی طاقت کو توڑا جائے گا۔ان تمام واقعات سے جوابِ قسم خود بخود نکل آیا کہ مکہ والوں کے ظلم اور ان کی تعدی اس بات کی متقاضی ہے کہ خدا تعالیٰ مکہ سے محمد رسول صلعم کو پہلے نکال لے جائے اور پھر فاتح کی حیثیت سے واپس لائے۔اور اس طرح ثابت کرے کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔وہ ہماری طرف سے ہے اور وہ ضرور جیت کر رہے گا۔اب اس کے بعد فرماتا ہے وَوَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ ہم ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان کی شہادت اس لحاظ سے ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی بنیاد رکھتے وقت جبکہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (البقرۃ:۱۳۰) گو ولد کی شہادت کا یہاں ذکر نہیں۔مگر یہ صاف ظاہر ہے کہ جب وہ دونوں مل کر کام کر رہے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے تھے تو لازماً اس دعا کے وقت وہ اکیلے نہیں تھے۔بلکہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔جیسا کہ رَبَّنَا کے لفظ سے بھی ظاہر ہے۔پھر اس لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ جب انہوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی دعائیں کیں۔تو ان دعاؤں کے معنے یہی تھے کہ انہوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد کے متعلق دعائیں کی ہیں۔چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں۔رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ