تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 283
يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْۚ۰۰۲۵ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی (اس) زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔تفسیر۔اس دن اسے اس امر پر افسوس ہو گا کہ کاش میں اعلیٰ اخلاق پیدا کر کے اپنی جماعت کو مضبوط کرتا مگر اس دن کی خواہش نفع نہیں بخش سکتی وہ وقت تو اس کی تباہی کا ہو گا۔فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰۲۶ پس اس دن اس (یعنی خدا) کے عذاب جیسا کوئی عذاب نہ دے گا وَّ لَا يُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ۰۰۲۷ اور نہ اس کی گرفت جیسی کوئی گرفت کرے گا۔حل لغات۔یُوْثِقُ۔یُوْثِقُ: اَوْثَقَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور اَوْثَقَہٗ فِی الْوَثَاقِ کے معنے ہوتے ہیں شَدَّہٗ بِہٖ اس کو رسّہ میں یا کسی اور باندھنے والی چیز میں جکڑ دیا (اقرب) پس لَا يُوْثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌکے معنے ہوں گے اس جیسا کوئی نہیں باندھے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے جس طرح تم نے ایسے ایسے عذاب ہماری جماعت کو دیئے جن کی مثال نہیں ملتی اسی طرح ہم تمہیں بھی اس دن ایسا عذاب دیں گے جس کی مثال نہیں ملتی اور جس طرح تم نے مومنوں کو کئی قسم کی قیدوں میں ڈالا تھا اسی طرح ہم بھی تمہیں قیدوں میں ڈالیں گے۔قید سے مراد یہاں صرف قید ہی نہیں بلکہ کاموں سے الگ کر دینا یا اور کئی رنگ میں ان کو جکڑ کر تکالیف پہنچانا بھی اس میں شامل ہے۔فرماتا ہے جس طرح تم نے ہمارے مامور کی جماعت کو باندھ باندھ کر دکھ دیئے تھے اسی طرح ہم بھی تم کو ایسا باندھیں گے کہ کبھی کسی کو نہ باندھا ہو گا۔