تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 282

کے ساتھ آئے گا یا خدا آئے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے دونوں معنے ہوسکتے ہیں یہ بھی کہ فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے اور یہ بھی کہ خدا فرشتوں کی صفوں کے ساتھ آئے گا۔وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ اور اس دن جہنم (قریب) لائی جائے گی اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا۔وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ۰۰۲۴ مگر اب اس کے لئے (نفع مند) نصیحت کہاں۔تفسیر۔اَلْاِنْسَانُ سے مراد وہ انسا ن ہے جس کا اوپر ذکر آ چکا ہے اور جس کے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ وہ یتامیٰ کی خبر گیری نہیں کرتا۔مساکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔باپ دادا کا مال برباد کر دیتا ہے اور مال سے بے جا محبت کرتا ہے فرماتا ہے اس دن وہ انسان جس میں یہ چار خصلتیں پائی جاتی ہوں گی وہ چاہے گا کہ اپنی اصلاح کرے اپنی قوم کو منظّم کرے۔ا پنے شیرازہ کو متحد کرے اور قومی تباہی سے محفوظ رہے مگر اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى قومی کیریکٹر سالہاسال کی محنت کے بعد پیدا ہوتے ہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ادھر خیال آئےاور ادھر قومی کیریکٹر کا رخ بدل جائے۔اکرامِ یتیم کی عادت کسی جماعت میں ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ چالیس پچاس بلکہ سو سال کی جدوجہد کے بعد قومی طور پر جماعت کا ہر فرد اس کیریکٹر کا مالک بنتا ہے۔اسی طرح مساکین کی خبر گیری کا قومی طور پر احساس سالوںکی جدو جہد کے بعد پیدا ہوتا ہے۔یہی حال محبتِ مال کا ہے کہ وہ ایک دن میں نہیں جاتی بلکہ مدتوں کی کوششیں صفائی قلب کا موجب بنتی ہیں۔پس فرماتا ہے اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى اب اصلاح کا کہاں موقع ہے یہ چیزیں تو ایک لمبے عرصہ میں پیدا ہوتی ہیں اور تمہارا وہ عرصہ گذر گیا اب تو تم ہلاکت کے کنارے پر کھڑے ہو اب اصلاح اور درستی اَحوال کا کون سا موقع ہے۔