تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 276

یہ ہے کہ اگر قومی جنگ ہو جائے تو چونکہ قوم کی اکثریت غرباء پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے قوم کو کثرت سے کام کرنے والے مل جاتے ہیں۔ایک کروڑ پتی کی تلوار صرف ایک تلوار کا کام دے سکتی ہے لیکن جنگوںمیں ایک تلوار نہیں کروڑوں تلواروں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کروڑوں تلواریں اس وقت تک مہیا نہیں ہو سکتیں جب تک کروڑوں غرباء کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائے اور ان کو پوری طرح مطمئن نہ کیا جائے۔اگر مساکین کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے تو یہ لازمی بات ہے کہ جب قوم پر کوئی مصیبت آئے گی شریف الطبع لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ قوم نے ہم پر احسان کیا تھا اب اس پر مصیبت آئی ہے تو ہم اس کی مدد کریں۔جیسے انگلستان، امریکہ، روس اور جرمنی وغیرہ ممالک میں موجودہ جنگ میں لاکھوں آدمی کام آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو قوم کے لئے قربان کر دیا۔اس کی وجہ درحقیقت یہی ہے کہ ان قوموں میں غرباء کی پرورش کا احساس بہت زیادہ پایا جاتا ہے ہندوستا ن میں جو لوگ فوجی بنتے ہیں وہ یا تو اس لئے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں کہ ان کے باپ دادا فوج میں کام کرچکے ہوتے ہیں اور یا پھر اس لئے جاتے ہیں کہ ان کو بعد میں مربعے مل جائیں۔قومی احساس ہندوستانیوں میں بہت کم ہوتا ہے۔پھر اگر غرباء کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے تو ان کے دلوں میں یہ احساس رہتا ہے کہ جو لوگ اپنے اموال میں ہماری ضروریات کا خیال رکھتے ہیں وہ فتوحا ت میں بھی ہمارا ضرورخیال رکھیں گے اور یہ بھی قوم کی ترقی کا ایک ذریعہ ہوتا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ قومی اموال کی ترقی صرف امراء کو ہی نہیں بلکہ ہمیں بھی فائدہ پہنچائے گی۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اموال میں غرباء کے حقوق اس لئے بیان کئے ہیں كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ(الـحشـر:۸)تا کہ تم روپیہ کو اس طرح استعمال نہ کرو کہ وہ دولت مندوں میں ہی چکر لگانے لگے بلکہ غرباء کو بھی روپیہ ملے۔پس غرباء کی خبر گیری کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جتنی قوم ترقی کرے گی اتنا ہی ہمارا حصہ بڑھتا چلا جائے گا لیکن اگر ان کو حصہ نہ دیا جائے تو وہ کہتے ہیں ہمیں تو حصہ ملنا نہیں قومی اموال کی ترقی امراء کو ہی فائدہ دے گی اس لئے ہم اپنی جانوں کو کیوں ضائع کریں۔تیسری چیز جس کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے وہ اَ کْلِ تُرَاث ہے جو اسراف کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔جب کسی قوم میں اسراف پیدا ہوجائے تو وہ بھی یقینی طور پر تباہ و برباد ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا کہ تمہیں باپ دادا سے مال ملا مگر بجائے اس کے کہ تم اسے ترقی دیتے اور اسے بڑھانے کی کوشش کرتے تم نے اسے تباہ کرنا شروع کر دیا۔غرض اسراف بھی قومی تنزل کی ایک بہت بڑی علامت ہے اور اس کے دو بڑے نقصان ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ انسان میں نکما پن پیدا ہو جاتا ہے۔باپ دادا کی طرح اگر وہ کام