تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 270

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ۰۰۲۱ اور تم مال سے بے انتہا محبت کرتے ہو۔حلّ لُغات۔جَمًّا۔جَمًّا: اَلْـجَمُّ کے معنے ہیں اَلْکَثِیْرُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ بہت سی چیز (اقرب) نیز کہتے ہیں جَاءُ وْاجَـمًّا غَفِیْـرًا اور معنے یہ ہوتے ہیں جَاءُوْا بِـجَمَاعَتِـھِمْ۔اَلشَّـرِیْفُ وَالْوَضِیْعُ وَلَمْ یَتَخَلَّفْ اَحَدٌ وَکَانَتْ فِیْـھِمْ کَثْرَۃٌ یعنی سب لوگ اکھٹے ہو کر آ گئے چھوٹے بھی اور بڑے بھی۔کوئی بھی پیچھے نہ رہا اور اسی طرح لوگوں کی کثرت ہو گئی (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے تمہاری حالت یہ ہے کہ تم مال کو لپیٹ کر بیٹھ جاتے ہو خدا تعالیٰ نے تو تمہیں اس لئے مال دیا تھا کہ تم اسے تجارت میں لگاؤ یا صنعت وحرفت کو فروغ دو یا غریبوں کی خبر گیری کرو مگر تم اسے بند کر کے بیٹھ جاتے ہو۔اسی طرح اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ تم مال سے ایسی محبت کرتے ہو کہ اچھے اور برے کی تمیز تم میں باقی نہیں رہی۔تمہارے پاس حرام مال آتا ہے تو تم حرام لے لیتے ہو حلال آتا ہے تو حلال لے لیتے ہو۔ادنیٰ چیز آتی ہے تو ادنیٰ لے لیتے ہو اعلیٰ چیز آئے تو اعلیٰ لے لیتے ہو۔تمہیں صرف مال سے غرض ہوتی ہے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ مال تمہیں ملا کہاں سے اور کس طرح سے۔اوپر کی آیات میں چار امور بیان کئے گئے ہیں جو کفار میں پائے جاتے تھے اور یہی چار امور ایسے ہیں جن سے قومیں تباہ ہوتی ہیں۔اوّل یتامٰی کی خبر گیری نہ کرنا۔فرماتا ہے ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی انعام ملتا ہے تو کہتے ہیں ہم خدا کے حضور خاص شان رکھتے ہیں اور جب ان پر اس رنگ میں ابتلا وارد ہوتا ہے کہ ان کی مالی حالت ناقص ہو جاتی ہے اور ان پر تنگ دستی کے ایام آ جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں خدا نے ہماری اہانت کر دی۔گویا دونوں صورتوں میں وہ عزت اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔عزت آتی ہے تو کہتے ہیں ہمارا اکرام ہونا ہی چاہیے تھا اور اگر اہانت آتی ہے تو کہتے ہیں ہماری تو عزت ہونی چاہیے تھی خدا نے غلطی سے ہمیں ذلیل کر دیا۔اللہ تعالیٰ ان امور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ تمہاری تباہی کے سامان تمہارے اندر ہی موجود ہیں اور انہی کے ذیعہ سَوطِ عذاب نازل ہوا کرتا ہے یعنی اندرونی طور پر بعض ایسی قوتیں