تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 259

طرف منسوب کر دیتے ہیں جو صاف طور پر ان کی بے ایمانی کی علامت ہے۔اگر کہو کہ وہ نتائج کے لحاظ سے ہر کام کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر نا پسند کرتے تھے تو پھر سوال یہ ہے کہ نتائج تو سب کے سب خدا تعالیٰ ہی نکالتا ہے پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ نیک نتائج خدا نکالتا ہے اور برے نتائج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نکالتے ہیں۔پس اگر انہوں نے نتائج کے اعتبار سے ایسا کہا تب بھی غلط ہے کیونکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ اچھے نتائج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں اور برے نتائج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں اس صورت میں انہیں اچھے اور برے دونوں نتائج خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے چاہیے تھے مگر وہ اچھے نتائج خدا تعالیٰ کی طرف اور برے نتائج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے تھے اور اگر انہوں نے اچھے اور برے نتائج کو بندے کے عمل کی طرف منسوب کرنا تھا اور ان کا یہ دعویٰ تھا کہ بندہ اچھے عمل کرتا ہے تو اچھے نتائج پیدا ہوتے ہیں، برا عمل کرتا ہے تو برے نتائج پیدا ہوتے ہیں تو اس صورت میں اچھے اور برے دونوں نتائج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے چاہیے تھے۔اگر اُحد میں کسی غلطی کی وجہ سے بہت سے مسلمان مارے گئے تو آخر بد ر میں مٹھی بھر صحابہؓ کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایک بہت بڑے لشکر پر فتح بھی تو پائی تھی اگر وہ بندے کے فعل کو دیکھ رہے تھے اور اسی نقطہ نگاہ سے یہ بات کہہ رہے تھے تو وہ کہتے کہ نیکی بھی محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہےاور بدی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اور اگر وہ نتائج کے اعتبار کو ملحوظ رکھ کر بات کرتے تو کہتے کہ نیکی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور بدی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے مگر وہ ان دونوں نقطہ ہائے نگاہ کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ نیکی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور بدی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ منافقین ایسا کر ہی نہیں سکتے کہ نیکی اور بدی دونوں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیں یا نیکی اور بدی دونوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف منسوب کر دیں کیونکہ ان کی غرض تو یہ تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دلوں سے کم کریں اگر وہ کہتے کہ نیک نتائج بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں اور برے نتائج بھی آپ کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں تو لوگوں کے دلوںمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بدظنی پیدا نہ ہو سکتی کیونکہ زیادہ اچھے نتائج نکلتے تھے اور بہت کم خراب نکلتے تھے۔سو ۱۰۰ میں سے اٹھانوے نتائج بہتر ہوتے اور صرف دو۲ نتائج خراب نکلا کرتے تھے۔پس اگر وہ ایسا کہتے تو ان کا کام نہ بنتا۔لوگ کہتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بڑے عقل مند لیڈر ہیں کہ انہوں نے لڑائیوں میں اتنی دفعہ فتح پائی، اتنی دفعہ