تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 244
ہے کہ اس رنگ کا کوئی واقعہ آئندہ ہونے والا ہے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرماتے ہیں۔’’دیکھا کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسٰی سمجھتا ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے، گاڑیوں، رتھوں وغیرہ کے ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آ گیا ہے۔میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسٰی ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ اتنے میں مَیں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے (تذکرہ صفحہ۴۲۹) اسی طرح آپ کا ایک یہ بھی الہام ہے۔یَاْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی (تذکرہ صفحہ ۴۲۳) کہ تجھ پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو موسٰی کے زمانہ کی طرح ہو گا۔پس جبکہ حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ موسٰی کی طرح کا ایک واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی امت میں ہونے والا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ اب تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔دوسری طرف خدا تعالیٰ کا وہ مامور جو موجودہ زمانہ میں آیا، اسے بتایا گیا کہ وہ موسٰی ہے، فرعون اس کا پیچھا کرے گا اس کے ساتھی گھبرا جائیں گے اور کہیں گے کہ اے موسٰی ہم پکڑے گئے اس وقت موسٰی بلند آواز سے کہے گا کہ کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا خدا میرے ساتھ ہے۔ان دو۲ الہامات کے ساتھ اگر میرے اس رؤیا کو بھی ملا لیا جائے جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے کہ میں ایک مکان میںٹھہرا ہوا ہوں۔’’اس وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ جس مکان میں مَیں ٹھہرا ہوا ہوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اسی میں پناہ لی تھی۔‘‘ (الفضل جلد ۳۲ نمبر ۱۴۲ مورخہ ۲۰؍جون۱۹۴۴ء صفحہ ۱ ) تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آئندہ کے متعلق ایک پیشگوئی ہے جو لَیَالِی عَشْـر کے دوسرے ظہور میں گیارھویں رات یعنی انیسویں صدی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہو گی اور موسٰی کی مصر سے نجات کی قسم کا کوئی واقعہ جماعتِ احمدیہ کو پیش آئے گا۔