تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 229
کہ انہوں نے سارے کھنڈرات کھود لئے ہیں اور اب کوئی بھی ایسا کھنڈر باقی نہیں رہا جسے تلاش کیا جا سکے۔ہندوستان میں انگریز تین سو سال سے حکومت کر رہے ہیں۔مگر ہندوستان کے سارے کھنڈرات وہ اب تک نہیں نکال سکے۔تیس چالیس سال کی بات ہے کہ ٹیکسلا میں اشوکا کا شہر نکلا جو ہندوستان کے بہت بڑے بادشاہوں میں سے تھا اور اب تک پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس کا مقام کہاں تھا۔تیس چالیس سال ہوئے وہاں ایک مقام کو جو ’’شاہ دی ڈھیری‘‘ کہلاتا تھا کھودا گیا تو اشوکا کے محلات اور اس کا شہر نکل آیا۔حالانکہ اس سے پہلے وہ اشوکا کا صدر مقام کبھی بنگال میں بتاتے تھے۔کبھی بہار میں اور کبھی کسی اور جگہ۔گویا اس کے حالات اتنے مخفی تھے کہ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں رہا تھا کہ وہ کہاں رہتا تھا۔اتفاقیہ طور پر ایک مقام کو کھودا گیا تو اس میں سے اشوکا کے محلات وغیرہ نکل آئے۔حالانکہ وہ ایک زمانہ میں سارے ہندوستان کا بادشاہ تھا۔اسی طرح سندھ میں منجودھارو کے مقام پر جسے سندھی زبان میں ’’موہنجو ڈیرو‘‘ کہتے ہیں ایسے آثارِ قدیمہ برآمد ہوئے ہیں جن سے سندھ کی پرانی تہذیب کا پتہ چلتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اشوکا کی تہذیب سے بھی پرانی ہے۔سندھیوں کو اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔اتفاقاً وہ جگہ کھودی گئی تو نیچے سے ایسے آثار نکل آئے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آج سے دس بارہ ہزار سال پہلے کے ہیں۔قاعدہ یہ ہے کہ جو بھی جگہ نکلے اس کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ سب سے قدیم تہذیب کے آثار ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے جیکب آباد میں ایک جگہ نکلی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس سے بھی پرانی ہے۔پس ایک ایسی جگہ میں بھی جہاں صدیوں سے انگریزوں کی حکومت ہے جب وہ ابھی تک مکمل کھدائی نہیں کر سکے تو عرب کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہاں انہوں نے پورے طور پر کھدائی کر لی ہے۔پس اوّل تو یہ دعویٰ کہ کھدائی میں عاد کا نام نہیں نکلا اگر صحیح ہو تو اس سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ جن کھنڈرات کی یورپین نے کھدائی کی ہے ان میں عاد کا نام نہیں نکلا نہ یہ کہ عاد کا وجود تھا ہی نہیں۔اگر چین میں بیٹھا ہوا ایک شخص یہ کہہ دے کہ افریقہ کوئی نہیں تو اس کے معنے صرف اتنے ہی ہوں گے کہ اس نے افریقہ کو نہیں دیکھا نہ یہ کہ افریقہ کا کوئی وجود ہی نہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے جب عادِارم فرمایا ہے تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ عاد کسی ایک قبیلے کا نام نہیں بلکہ مجموعہ قبائل کا نام تھا اور کئی قسم کے عاد تھے اور جبکہ عاد مجموعۂ قبائل کا نام تھا تو جس قبیلے کی بھی حکومت ہو گی وہ اپنا نام لکھتا ہو گا مجموعے کا نہیں لکھتا ہو گا اس وجہ سے یہ خیال کر لینا کہ پرانے آثار میں عادِ ارم کا نام نہیں ایک مغالطہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو نام بھی کسی پرانے عرب قبیلے کا نکلے گا اسے عاد کے قبائل میں سے ہی قرار دینا