تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 225

ان میں چند خاص قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ان میں نہیں پائے جاتے جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کی جماعت کو وہ وسعت حاصل نہیں جو دنیا پر چھا جانے والی جماعتوں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔چند علمی رنگ میں بحثیں کرنے والے آدمیوں کا پیدا ہو جانا کسی جماعت کی زندگی کے لئے کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ قربانی اور ایثار کا مادہ ان میں زیادہ سے زیادہ پایا جاتا ہو۔وہ مرکز سے وابستگی رکھتے ہوں۔اپنی تعلیم کی اشاعت کے لئے ہر مشکل کو برداشت کرنے والے ہوں اور یہ جذبہ اپنے دلوںمیں رکھتے ہوں کہ ہم مر جائیں گے مگر اس تعلیم کو نہیںچھوڑیں گے جس کو لے کر ہم کھڑے ہوئے ہیں۔یہ جذبۂ قربانی اور ایثار و استقلال کا یہ مادہ ہماری جماعت میں تو پایا جاتا ہے مگربہائیوں میں اس قسم کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔پھر جس قسم کی اشاعت کی توفیق ہماری جماعت کے مبلغوں کو ملی ہے ان کو نہیں ملی۔ہماری جماعت کے مبلغ سارے جہان میں پھرتے اور لوگوں کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرتے ہیں مگر ان کے اندر کوئی باقاعدہ تبلیغی نظام نہیں، نہ ان کے مبلغ غیر ممالک میں جاتے ہیں اور نہ تبلیغی جذبہ ان کے اندر پایا جاتا ہے۔اسی طرح جس قسم کا کام ہماری جماعت کر رہی ہے اس قسم کے کام کی کوئی مثال بہائی اپنی جماعت کی طرف سے پیش نہیں کر سکتے۔ہماری جماعت نے پسماندہ اقوام کو ابھارنے اور ادنیٰ اقوام کو اونچا کرنے اور ان میں تعلیم کو رائج کرنے اور انہیں مہذب اور متمدن بنانے کے لئے جس قدر کوششیں کی ہیں ان کا عشر عشیر بھی بہائیوں میں نہیں پایا جاتا۔پھر تعداد کے لحاظ سے دیکھو تو ان کی ہمارے مقابلہ میں کوئی نسبت ہی نہیں۔باوجود اس کے کہ انہوں نے ہماری جماعت سے چالیس سال پہلے کام شروع کیا تھا پھر بھی اب تک صرف چند امراء کی وجہ سے ان کو شہرت حاصل ہوئی ہے جو ان کی جماعت میں شامل ہوئے۔لوگوں کی اکثریت نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔اور ان چند امراء کا بہائیت کی طرف میلان بھی کسی قربانی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اس وجہ سے ہوا کہ امراء مذہبی پابندیوں کو سخت مصیبت سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریق نکل آئے کہ مذہب بھی رہے اور آزادی بھی ہاتھ سے نہ جائے۔اس خیال کے ماتحت اگر انہیں کسی مذہب میں آسانی نظر آتی ہے تو وہ اس میںشوق سے شامل ہو جاتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہم مذ ہب کے بھی پابند رہیں گے اور ہر قسم کے تعیّش سے بھی کام لیتے رہیں گے۔بہائیت میں اس قسم کی کوئی پابندیاں نہیں، وہ کہتے ہیں نماز جس کے پیچھے چاہو پڑھو جو چاہو کرو تمہیں کوئی باز پُرس نہیں ہو گی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو بیک وقت مذہب اور آزادی سے ہمکنار رہنا چاہتے ہیں وہ اس مذہب میں شامل ہو جاتے ہیں۔