تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 215

اگر دو سال نکال دیں تو ۱۸۹۰ رہ جاتے ہیں اور یہ وہی سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٰ کیا۔اور اگر تین سال نکال دیں تو ۱۸۸۹ رہ جاتے ہیں اور یہ وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں سے بیعت لی۔حضرت مسیح موعودؑ کے دعوے کی تاریخ کا بیان اسی طرح اگر ہم ہجری سنہ کا حساب کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تین صدیوں کو لَیَالٍ عَشْرٍ میں شامل کریں تو یہ ۱۳۰۰ بن جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے بالکل قریب یعنی ۱۳۰۸ ہجری میں دعویٰ فرمایا ہے۔اور سات یا آٹھ ایسا چھوٹا دہاکا ہے کہ تیرہ صدیوں کے ذکر میں ان کو شمار ہی نہ سمجھا جائے گا۔پھر اگر ہم ایک اور لحاظ سے دیکھیں تو اس سے براہین احمدیہ کی پیشگوئی نکل آتی ہے۔براہین احمدیہ ۱۳۰۰ھ میں لکھی گئی اور ۱۳۰۲ ہجری میں شائع ہوئی ہے اور یہ وہی سال ہے جس میں قرآنی پیشگوئی کے مطابق فجر کا طلوع مقدر تھا۔گویا شمسی اور قمری دونوںلحاظ سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور رات کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے اُفقِ آسمان سے الطارق کا ظہور ہو گیا۔یہ کتنی زبردست پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طلوعِ فجر کی تاریخیں تک بتا دی گئیں اور سینکڑوں سال پہلے ان کا ذکر کر دیا گیا اور پھر اس کے مصداق کو عین انہی تاریخوں میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا جو قرآن اور احادیث میں اس کے ظہور کے لئے مقرر کی گئی تھیں۔یہ خدا تعالیٰ کا ایسا عظیم الشان نشان ہے جس پر غور کرنے سے اس کی ہستی اور قدرت پر زندہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص جو تعصّب سے خالی ہو اسے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب ہے۔شفع اور وتر کا مطلب اسلام کے دوبارہ احیاء کے اعتبار سے اب رہا پیشگوئی کا تیسرا حصہ یعنی وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ اس کے دو۲ معنے ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ شفع اور وَتر کا جو معاملہ ہو گا اسے ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت میں بعد کے واؤ عطف کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ ہم اس کی بھی قسم کھاتے ہیں اور اس کی بھی قسم کھاتے ہیں۔لیکن وَالْفَجْرِ میں واؤ قسم کے لئے آیا ہے کیونکہ اس سے پہلے کوئی اور مضمون نہیں کہ ہم اس واؤ کو عاطفہ قرار دے سکیں۔وَالْفَجْرِ دراصل اُقْسِمُ بِالْفَجْرِ ہے اور واؤ کو اُقْسِمُ کا قائم مقام بنایا گیا ہے لیکن اس کے بعد جتنے واؤ ہیں سب اَلْفَجْرِ کے بعد جو امور مذکور ہوئے ہیں انہیں معطوف بنانے کے لئے آئے ہیں۔اس لحاظ سے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کے یہ معنے ہوں گے کہ ’’اور ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس معاملہ کو جو شفع اور