تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 206
کرنی پڑی تو معمولی بات ہے ۷۱ سال تک ہم تکلیفیں برداشت کر لیں گے اس کے بعد آپ کا غلبہ نہیں رہ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک اور الہام بھی ہوا ہے۔انہوں نے کہا۔کیا؟ آپ نے فرمایا الٓمّٓصٓ وہ کہنے لگے تو پھر بھی کیا ہوا۔الف کا ایک لام کے ۳۰ میم کے ۴۰ ص کے ۹۰ کل ۱۶۱ سال بنے یہ بھی کوئی بڑی مدت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے الٓرٰ بھی الہام ہوا ہے۔یہ سن کر وہ پھر حساب لگانے لگے اور کہا کہ الف کا ایک لام کے ۳۰ ر کے ۲۰۰ کل ۲۳۱ سال بنے یہ بھی کوئی زیادہ معیاد نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے الٓمّٓرٰ بھی الہام ہوا ہے یہ سن کر وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ چلو یہاں سے یہ معاملہ تو کچھ مشتبہ ہو گیا ہے(فتح البیان زیر آیت الٓمّٓ) اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تردید نہیں کی بلکہ ان کی باتوں کی تصدیق کرتے چلے گئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف مقطعات میں علاوہ دوسری باتوں کے ایک یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ ان میں بعض ایسے واقعات کا بطور پیشگوئی ذکر ہے جو اسلام کو پیش آنے والے تھے خواہ وہ اچھے تھے یا برے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں سورۂ رعد جو نہایت خطرناک خبروں پر مشتمل ہے اس کی ابتدا الٓمّٓرٰ سے کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقی کا زمانہ ۲۷۱ سال تک جانے والا تھا اور ۲۷۱ ھ سے اسلام میں کوئی خاص تنزل واقعہ ہونے والا تھا کیونکہ الٓمّٓرٰ کے اعداد ابجد کے لحاظ سے ۲۷۱ہیں۔الف کا ایک لام کے ۳۰ م کے ۴۰ ر کے ۲۰۰