تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 205

کا نکرہ کے طور پر ذکر کیا گیا یہ بتانے کے لئے کہ ان میں انتہا درجہ کا ظلم ہو گا۔موجودہ زمانہ کے متعلق پیشگوئی میں نے بتایا تھا کہ گذشتہ کئی سورتوں میں اکٹھی پیشگوئیاں چل رہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ اولیٰ کے متعلق بھی اور آپ کی بعثتِ ثانیہ کے متعلق بھی۔سورۃ الفجر بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے اور جس طرح سورۂ غاشیہ اور بعض دوسری سورتوں میں اکٹھے حالات بیان کئے گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ اولیٰ کے بھی اور آپ کی بعثتِ ثانیہ کے بھی۔اسی طرح اس سورۃ میں دونوں زمانوں کے حالات اکٹھے بیان کر دیئے گئے ہیں۔پس یہ پیشگوئی صرف ایک زمانہ کے متعلق نہیں بلکہ دو۲ زمانوں کے متعلق ہے اور اس زمانہ کا پتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اخبار سے بھی ملتا ہے اور قرآن کریم کی آیت الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ (الرعد:۲) میں بھی اس کے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے۔ابن اسحاق نے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں نیز ابن جریر نے ابن عباس سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات تلاوت کر رہے تھے کہ ایک یہودی ابو یاسر اپنے ساتھیوں سمیت آپ کے پاس سے گذرا اور اس نے سورۂ بقرہ کی ان آیا ت کو سنا۔وہ یہود کے علماء میں سے تھا ان آیات کو سنتے ہی وہ سیدھا گھر کی طرف روانہ ہوا تا کہ وہ اپنے بھائی حُییی بن اخطب کو یہ واقعہ بتائے۔تب اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ یہ یہ آیتیں میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں اس نے کہا کہ کیا تم نے خود اپنے کانوں سے سنی ہیں یا کسی اور شخص سے؟ وہ کہنے لگا میں نے اپنے کانوں سے یہ آیتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔اس نے کہا اچھا تم ابھی میرے ساتھ چلو۔چنانچہ وہ سب کے سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے اور حُییی نے عرض کیا کہ میرا بھائی کہتا ہے کہ یہ یہ آیتیں آپ کو الہام ہوئی ہیں میں یہ دریافت کرنے آیا ہوں کہ کیا یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیات نازل کی ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ آیتیں مجھ پر اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کی ہیں۔انہوں نے کہا اگر یہ بات ہے تو پھر معاملہ آسان ہو گیا آپ کا الہام ہے الٓمّٓ۔سو ابجد کے لحاظ سے الف کا ایک لام کے ۳۰ میم کے ۴۰ کل ۷۱ سال بنے بالفرض اگر آپ کو غلبہ بھی ہوا تو صرف ۷۱ سال رہے گا۔اس عرصہ میں اگر ہمیں آپ کی غلامی