تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 175

کرتے ہیں کہ آج سے بارہ سال کے بعد ہم اپنے ساتھیوں سے کہیں گے کہ وہ رمضان کے روزے رکھا کریں۔روزہ رکھنے کا حکم دینا تو انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے ایک مفتری بھی اگر چاہے تو ایسا حکم اپنے ماننے والوں کو دے سکتا ہے۔مسیلمہ کذاب بھی ایک جھوٹی شریعت بنا سکتا تھا۔دیکھنا تو یہ ہے کہ آیا جو بات پیش کی جا رہی ہے وہ کافروں کے لئے بھی حجت ہے یا نہیں؟ پھر عجیب بات ہے کہ اس توجیہ کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں کفار کے سامنے حجت کے طور پر رمضان کی راتوں کو پیش کیا گیا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ آپ ان دنوں محرم کے پہلے دس دنوں کے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تھی۔چونکہ اس واقعہ کی یادگار کے طور پر یہودی لوگ یہ روزے رکھا کرتے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بھی یہ روزے رکھتے تھے۔جب رمضان کے روزوں کے احکام نازل ہو گئے تو آپ نے یہ روزے چھوڑ دیئے۔پس سوال یہ ہے کہ جو روزے ابھی فرض ہی نہیں ہوئے تھے اور جن کو نہ مسلمان جانتے تھے اور نہ کفار جانتے تھے ان کے ذکر سے مسلمانوں نے کیا سمجھا۔یا کافروں نے کیا سمجھا ہو گا۔جب یہ روزے سورۃ الفجر کے نزول کے وقت فرض ہی نہیں تھے تو ان کی شہادت کیا اثر رکھ سکتی تھی اور ان سے کفار پر کیا حجت ہو سکتی تھی۔ممکن ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ بے شک رمضان کے روزے بارہ سال بعد مدینہ منورہ میں جا کر فرض ہوئے ہیں مگر ان کا قبل ازوقت ذکر کرنا یا رمضان کی راتوں کی قسم کھانا قابل اعتراض امر نہیں۔قرآن کریم نے خود متعدد مقامات پر آئندہ زمانوں میں ہونے والے واقعات کی قسم کھائی ہے مثلاً قرآن کریم نے یہ کہا ہے یا نہیں کہ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ(التکویر:۲)۔ایک زمانہ آئے گا جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کو ترک کر دیا جائے گا یا انوارِمحمدیہ کا نزول بند ہو جائے گا یا سورج اور چاند کو گرہن لگے گا۔پھر کیا یہ واقعات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رونما ہو گئے تھے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں بعد میں پوری ہوئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان بعد میں رونما ہونے والے واقعات کی خود قسم کھائی ہے۔اسی طرح وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ(التکویر:۸) میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ میں ریل تار اور ریڈیو وغیرہ سے باہمی تعلقات ایسے ہو جائیں گے کہ گویا پاس بیٹھے ہیں۔مگر یہ پیشگوئیاں ایک لمبا عرصہ گذرنے کے بعد پوری ہوئیں۔اسی طرح خواہ رمضان کے روزے بارہ سال بعد فرض ہوئے مگر اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور اِذَاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ اور اسی قسم کی اور متعدد پیشگوئیوں کی طرح رمضان کی راتوں کی بھی قسم کھائی جا سکتی تھی۔