تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 154
تفصیلات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ سورۃ اس وقت کی ہے جب ابھی قومی طور پر مخالفت شروع نہیں ہوئی تھی اسی لئے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار پر اتنا زور نہیں جتنا اعمال کی جزئیات پر زور ہے بالخصوص ایسے گناہوں پر جو اسلام کے مقابلہ کے وقت اسلام کی شوکت اور ان کی تباہی کا موجب ہونے والے تھے پس یہ سورۃ یقیناً ابتدائی ایام کی ہے اور چونکہ اس میں اشارۃً یہ ذکر آتا ہے کہ اب منظم مخالفت ہونے والی ہے اس لئے یہ سورۃ تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے بالکل ابتدائی حصہ کی ہے۔ترتیبِ سورۃ ابوحیان کہتے ہیں کہ سورۃ غاشیہ میں وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ میں کچھ لوگوں کے متعلق ذکر کیا گیا تھا کہ وہ ذلیل اور رسوا ہوں گے۔اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو یتامیٰ کی خبر گیری نہیں کرتے، مساکین کی طرف توجہ نہیں کرتے اور حریص اور لالچی ہیں۔اسی طرح وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَۃٌ میں ایک اور گروہ کا ذکر کیا گیا تھا جو اللہ تعالیٰ کے حضور عزت پانے والا تھا اس سورۃ میں اس کا ذکر يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کے ذریعہ کیا گیا ہے۔(البحر المحیط ابتداء سورۃ الفجر) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دونوں ذکر اس سورۃ میں موجود ہیں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان دونوں امور میں سے ایک کا تعلق وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ سے ہے اور دوسرے کا تعلق وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَۃٌ سے ہے مگر یہ صرف قریبی تعلق ہے۔یعنی پہلی سورۃ کے بعض مضامین سے اس سورۃ کے بعض مضامین کا باہمی رابطہ ملتا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر مضمون کا وہ تسلسل جو ایک زنجیر کی طرح دونوں میں پایا جانا چاہیے وہ انہوں نے نہیں بتایا۔جہاں تک قریبی تعلق کا سوال ہے ابوحیان نے خوب کام کیا ہے اور وہ اکثر تعلقاتِ سُوَر کے بارہ میں بڑی نگاہ رکھنے والے انسان ہیں بلکہ اس امر میں تمام پرانے مفسروں سے منفرد ہیں اور ممتاز بھی۔مگر اس قریبی تعلق کے علاوہ قرآن کریم کی سورتوں اور آیتوں میں ایک مسلسل زنجیر بھی معلوم ہوتی ہے جو دور دور تک مضامین کی لڑی پروتی چلی جاتی ہے اور بالآخر سارے قرآن کریم کو ایک ہی ہار بنا کر رکھ دیتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے وحی کی مثال صَلْصَلَۃُ الْـجَرْسِ سے دی ہے(صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) جس میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس طرح گھنٹی کی جھنکار میں ایک تسلسل ہوتا ہے اسی طرح وحی ایک مربوط اور مسلسل الٰہی کلام ہوتا ہے اور چونکہ قرآن کریم وہ کلام ہے جو تمام الٰہی کلاموں میں سے افضل ہے اس لئے وحی الٰہی کی صَلْصَلَۃُ الْـجَرْسِ سے تشبیہ دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم