تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 8
ہوتا ہے۔اس آیت کے لوگوں نے مختلف معنی کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہیں کہ ہر انسان کا خدا حافظ ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہےوَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا (الاحزاب:۵۳) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر رقیب ہے۔اور نفس شے کے تابع ہے جب ہر چیز پر وہ رقیب ہے تو نفس بھی اسی میں آ گیا اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ۔کِرَامًا کَاتِبِیْنَ (الانفطار:۱۱،۱۲) کہ یقیناً تم پر تمہارے خدا کی طرف سے نگران مقرر ہیں فرماتا ہے لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ(الرّعد:۱۲) یعنی اللہ کی طرف سے اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی ایک ملائکہ کی جماعت حفاظت کے لئے مقرر ہے جو اس کی اللہ کے حکم سے حفاظت کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایک روایت مروی ہے آپؐفرماتے ہیں وُکِّلَ بِالْمُؤْمِنِ مِائَۃٌ وَّسِتُّوْنَ مَلَکًا یَذُبُّوْنَ عَنْہُ کَمَا یُذَبُّ عَنْ قَصْعَۃِ الْعَسَلِ الذُّبَابُ (روح المعانی زیر آیت اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ) یعنی ہر مومن پر ایک سو ساٹھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں اور وہ اس سے اسی طرح شیطانی تحریکیں دور کرتے رہتے ہیں جس طرح شہد کے پیالہ سے مکھیاں اڑائی جاتی ہیں۔غرض انسان کی حفاظت کا قرآن اور حدیثوں دونوں سے پتہ لگتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کا نگران ہوتا ہے اور ملائکہ بھی اس فرض کو ادا کرتے ہیں۔مگر میرے نزدیک اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ میں کُلُّ سے مراد صرف اس قسم کے لوگ ہیں جو نَـجْمُ الثَّاقِب یا اس کے قائم مقام ہوں اور چونکہ اس قسم کے کئی لوگ ہوئے ہیں۔حضرت موسٰی بھی اس میں شامل تھے۔حضرت عیسٰیؑ بھی اس میں شامل تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں شامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس میں شامل تھے۔غرض ایک جماعت اس سے مراد تھی اس لئے کُلُّ کا لفظ استعمال فرمایا۔گویا کُلُّ نَفْسٍ سے مراد کُلُّ نَفْسٍ مِنْ ھٰذَا الْقِسْمِ ہے کہ اس قسم سے تعلق رکھنے والی ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے اور وہ نگران خدا تعالیٰ کی ذات ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ:۶۸) کہ اللہ تمہیں لوگوں کے منصوبوں سے بچائے گا۔یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا (انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۰) اور اسی قسم کا الہام حضرت مسیح ناصریؑ کو بھی ہوا کہ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ