تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 104
کھانا نہیں کھایا۔۱۹۴۲ء کے شروع میں جب قحط کی تکلیف شروع ہوئی اور غلّہ کی سخت قلت ہو گئی تو میں ان دنوں میں سندھ میں تھا مجھے وہاں قادیان سے اطلاع ملی کہ یہاں اوّل تو گندم ملتی ہی نہیں اور اگر ملتی ہے تو اس کی روٹی کالی پکتی ہے چنانچہ میں نے جو گندم کا نمونہ دیکھا زیرہ کے برابر اس کا دانہ تھااور رنگ ایسا تھا جیسے سیاہ گڑ ہوتا ہے میرے نزدیک تو اس گندم سے پکی ہوئی روٹیاں جانوروں کے کھانے کے قابل بھی نہیں تھیں مگر لوگ ان ایام میں مجبوراً وہی کھاتے رہے۔بنگال میں یہ حالت ہو گئی کہ ایک یتیم لڑکی جو ایک احمدی نے پرورش کے لئے رکھی ہوئی ہے بتاتی ہے کہ میں اور واقعات تو بھول گئی ہوں مگر مجھے اتنا یاد ہے کہ لوگ مردوں کی ہڈیاں لے کر کھا جاتے تھے۔بعض جگہ پر ثابت ہوا ہے کہ عورتوں نے اپنے بچے ذبح کر کے کھا لئے۔یہ کیسا خطرناک قحط ہے کہ دس لاکھ آدمی سے زیادہ چند مہینوں میں ہی بھوک کی وجہ سے مر گیا اور یہ دس لاکھ بھی گورنمنٹ کا اندازہ ہے ورنہ پبلک کا اندازہ یہ ہے کہ بنگال میں بیس لاکھ آدمی قحط کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ بیس لاکھ آدمی جنگ کے قریبًا چھ سالہ عرصہ میں بھی ہلاک نہیں ہوئے۔پھر یہ وہ زمانہ ہے جس میں ریل موجود ہے، موٹریں موجود ہیں، لاریاں موجود ہیں، نہریں چل رہی ہیں اور سامان خورد ونوش نہایت آسانی کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا جا سکتا ہے باوجود سامانوں کی اس قدر افراط کے ایک سال کے اندر اندر بیس لاکھ آدمی بنگال میں بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔اگر یہ قحط کسی ایسی جگہ پڑتا جہاں کھانے پینے کا سامان کسی صورت میں بھی پہنچایا نہ جا سکتا تو شاید ایک آدمی بھی نہ بچتا اور سب کے سب ہلاک ہو جاتے۔ہزارہا آدمی ایسے ہیں جو بنگال سے نکل کر پنجاب اور سرحد میں آبسے ہیں اور انہوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ اب شاید قیامت تک بنگال میں قحط ہی رہے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں سے کوئی زندہ ہی نہیں رہا اس لئے ہم گھبرا کر وہاں سے نکل آئے ہیں اب ہم نے واپس جا کر کیا کرنا ہے۔بعض واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ ایک بھوک سے تڑپتے ہوئے بچہ کو اٹھا کر لایا گیا اور اسے دودھ پلایا گیا تو دودھ کے اندر جاتے ہی وہ بچہ ہلاک ہو گیا۔دراصل لمبے فاقہ کی وجہ سے معدہ میں زہر پیدا ہو جاتا ہے اور جب دودھ یا کوئی اور غذا اندر جاتی ہے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔پس هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ کے یہ معنے ہیں کہ کیا تمہیں معلوم ہے یا نہیں کہ غاشیہ کہلانے والی مصیبت بھی آنے والی ہے۔هَلْ چونکہ عام طور پر تصدیق ایجابی کے لئے آتا ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کیا حدیث غاشیہ آ پہنچی کہ نہیں یعنی آ پہنچی ہے۔لیکن هَلْ جب فعل سے پہلے آئے تو کبھی قَدْ کے معنے بھی دیتا ہے اس لحاظ سے آیت یوں ہو گی قَدْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ لو اب مخالفتیں تیز ہونے والی ہیںاس لئے خدا تعالیٰ کی