تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 103
اور مسیح موعودؑ کے زمانہ کے لئے بھی اس کی پیشگوئی تھی۔سورۂ دخان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ۔يَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ(الدّخان:۱۱،۱۲) یعنی تو انتظار کر اس دن کا جب آسمان پر دھواں ہی دھواں چھا جائے گا اور سارے انسانوں کو اپنے اندر ڈھانپ لے گا یہ عذاب ہے جو نہایت ہی دردناک ہو گا۔غاشیہ سے مراد قحط کا عذاب چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو جب مکہ والوں نے سخت دکھ دیا تو آپ نے اس پیشگوئی کے ماتحت دعا کی کہ اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْـھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسَفَ (صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ’’ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ‘‘) اے خدا ان لوگوں نے مجھے سخت تنگ کر لیا ہے تو میری ان سات سالوں سے مدد فرما جن سات سالوں سے تو نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مدد کی تھی چنانچہ اس دعا کے نتیجہ میں اس زمانہ میں شدید قحط پڑا۔بارشیں رک گئیں اور اس قدر تباہی آئی کہ مکہ والوں نے ابو سفیان کو خاص طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور کہا کہ آ پ کی قوم قحط کی وجہ سے برباد ہو گئی آپ دعا کریں کہ ان کی یہ حالت بدل جائے (صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ’’ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ‘‘) گویا جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اپنے سفیر بھیجے تھے اسی طرح مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں اپنا سفیر بھیجا اور درخواست کی کہ اس قحط کے دور ہونے کے متعلق دعا فرمائی جائے چنانچہ آپ نے دعا کی اور اللہ نے اس قحط کو دور کر دیا۔تو غاشیہ سے مراد وہ عذاب دخان بھی ہے جس کا ذکر سورۂ دخان میں کیا گیا ہے۔اس دخانِ مبین کے عذاب کی مسیح موعودؑ کے زمانہ کے لئے بھی پیشگوئی کی گئی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو الہامات نازل ہوئے ان میں ایک الہام یہ بھی ہے کہ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ وَتَرَی الْاَرْضَ یَوْمَئِذٍ خَامِدَۃً مُّصْفَرَّۃً (تذکرہ :۵۰۴) حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں آپ کی پیشگوئی کے مطابق قحط کا عذاب غرض علاوہ اور عذابوں کے جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں اشارہ کیا گیا ہے قحط کے عذاب کی خبر بھی آپ کے الہامات میں موجود ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں لوگوں پر شدید تنگی اور مصیبت کے سال آئیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں علاوہ عام قحطوں کے جنگوں کی وجہ سے جو قحط پڑے ہیں وہ ایسے شدید ہیں کہ ان کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں ملتی۔دنیا میں ایک ایک سال کے قحط پڑتے ہیں تو تباہی آ جاتی ہے مگر یہاں قحطوں کی یہ حالت ہے کہ بعض اقوام ایسی ہیں جنہوں نے چھ چھ سال سے پیٹ بھر کر