تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 95
اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا۔پس جو چاہے اپنے رب کو مَاٰب بنا لے۔مَاٰب کے معنے ہوتے ہیں وہ چیز جس کی طرف انسان بار بار لوٹ کر جاتا ہے چونکہ اسلام خدا کو مومن کا معشوق قرار دیتا ہے اس لئے فرماتا ہے اگر تم اپنے دعویٰ ٔ عشق میں صادق ہو تو پھر تمہارا کام یہ ہے کہ جب بھی تم دنیا کے کاموں سے فارغ ہو جائو خدا کو مَاٰب بنائو اور اُسی سے اپنی محبت اور عشق کا اظہار کرو۔دوسری جگہ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ فَاِذَافَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ (الانشراح:۸،۹) کہ جب تم دنیا کے دھندوں سے فارغ ہو جائو تو پھر خدا کی طرف ہی رغبت کرو اور اُسی کو اپنا مَاٰب بنائو۔اُسی کی طرف جائو اور بار بار جائو۔مثلاً انسان کو ئی کتاب لکھ رہا ہے تو اِدھر فقرہ ختم ہو اور اُدھر اُس کی زبان سے نکلے سُبحان اللہ۔یا ایک شخص کھانا کھا رہا ہوتو اِدھر لقمہ چباتا جائے اور اُدھر سُبحان اللہ سُبحان اللہ کہتا جائے گویا اُس کا مَاٰب صرف خدا ہی ہو اور کسی طرف اُس کی حقیقی توجہ نہ ہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس طرف بھی اشارہ فرماتا ہے کہ چونکہ وہ دن آنےوالا ہے جس میں اسلام کو چاروں اطراف میں غلبہ حاصل ہو جائے گا اس لئے کئی لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش پید اہو گی کہ ہم کو بھی اس عزت میں سے کچھ حصہ مل جائے ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ اگر تمہاری سچے دل سے یہ خواہش ہے کہ تم بھی ان کامیابیوں میں حصہ لو اور تمہیں بھی کوئی مقام حاصل ہو جائے تو ہماری نصیحت ہے کہ تم اپنے رب کو مَاٰب بنا لو۔اور لوٹ لوٹ کر خدا کی طرف جائو۔تمہیں کام سے ذرابھی فراغت نصیب ہو۔تو تمہارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جائو۔اُس سے اپنی محبت بڑھائو۔اُس کی طرف دوڑدوڑ کر جائو اور اُس کو اپنی جائے پناہ قرار دو۔صرف پانچ وقت کی نمازیں اور تیس دن کے روزے انسان کے کام نہیں آتے بلکہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا اور انسان کا بار بار اس کی طرف لوٹنا۔یہ چیز ہےجو انسان کے کام آیا کرتی ہے۔اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا١ۖۚ۬ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا ہم نے تم کو ایک قریب (ز مانہ میں آنےوالے) عذاب سے یقیناً ہوشیار کر دیا ہے۔جس دن کہ انسان اُس کو قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًاؒ۰۰۴۱ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہو گااور کافر (اُس دن) کہہ اُٹھے گا اے کاش! (کاش) مَیں مٹی ہوتا۔حل لغات۔اَنْذَرْنٰکُمْ اَنْذَرْنٰکُمْ اَنْذَرَ سے متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے اور اَنْذَرَہُ بِالْاَمْرِ کے معنے