تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 96

ہوتے ہیں اَعْلَمَہٗ وَحَذَّرَہُ مِنْ عَوَاقِبِہِ قَبْلَ حَلُوْلِہٖ کسی خطر ے سے اس کو آگاہ کیا اور خطرے کے آنے سے پیشتر ہی اُس کے بُرے انجاموں سے خبردار کر دیا (اقرب) پس اَنْذَرْنٰكُمْ کے معنے ہوں گے کہ ہم نے عذاب قریب کے آنے سے پیشتر ہی اس سے اور اس کے انجاموں سے خبردار کر دیا ہے۔تفسیر۔اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ کے فقرہ میں غلبہ اسلام کی طرف اشارہ فرماتا ہے ہم نے تمہیں عذابِ قریب سے ڈرا دیا ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں اسلام اور قرآن کا غلبہ بھی مراد ہے صرف اگلا جہاں مراد نہیں۔کیونکہ یہاں ایک بات سے دوسری بات کا نتیجہ نکالا گیا ہے۔فرماتا ہے ہم نے عذابِ قریب سے تمہیں ڈرا دیا ہے۔جو ثبوت ہو گا اس بات کا کہ عذابِ بعید بھی آنےوالا ہے۔اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ کے فقرہ میں موعود عذاب کے آنے کا وقت يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ: یَوْمَ عَذَابًا کا بدل ہے۔پس اس جملہ کے یہ معنے ہیں کہ ہماری مراد اس سے وہ عذاب ہے جس دن انسان اپنے کاموں کے نتائج کو دیکھ لے گا۔دیکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اتفاقی طور پردیکھ لے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اُس پر اپنی ناکامی واضح ہو جائے گی۔وہ دیکھ لے گا کہ اس نے اپنے کئے کا بدلہ پا لیا۔مسلمان جیت گئے اور اُن کے دشمن ذلیل اور رُسوا ہو گئے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غالب آنے کے ساتھ کفّار نے بھی اپنا انجام دیکھ لیا اور مومنوں نے بھی اپنے انعامات دیکھ لئے۔یہاں تک کہ ابو قحافہ کے بیٹے ابو بکررضی اللہ عنہ نے اسی کے نتیجہ میں بادشاہت کا مقام حاصل کر لیا ورنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی حیثیت کیا تھی۔مکّہ کے ایک تاجر سے بڑھ کر اُن کی کوئی حیثیت نہ تھا مگر کُجا مکّہ کا ایک تاجر جسے مکّہ کی ریاست بھی حاصل نہیں تھی اور کُجا یہ کہ وہ ساری وسطی دنیا کے بادشاہ بن گئے۔جب وہ بادشاہ ہوئے تو ایک شخص اُن کے والد ابو قحافہ کے پاس دوڑا دوڑا گیا۔ابو قحافہ اُن کے والد کی کنیت تھی اور وہ اُن دنوں مکّہ میں تھے۔چونکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہو چکے تھے اِس لئے تمام مسلمانوں میں سخت گھبراہٹ تھی کہ اب نا معلوم کون مسلمانوں کا بادشاہ بنتا ہے۔وہ دوڑا دوڑا وہاں پہنچا اور کہنے لگا ابو بکر بادشاہ ہوگئے ہیں۔اُن کے والد نے یہ بات سُنی تو کہنے لگے کون ابو بکر؟ گویا اُن کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ بادشاہ بننے والا اُن کا بیٹا ہو سکتا ہے۔اُس نے کہا وہی جو تمہارا بیٹا ہے اَور کون۔انہوں نے سوال کرنا شروع کیا۔کیافلاں قبیلہ نے مان لیا ؟ کیا فلاں قبیلہ نے مان لیا؟ کیا فلاں قبیلہ نے مان لیا؟جب اُس نے سب سوالوں کا جواب اثبات میں دیا تو وہ کہنے لگے کیا بنو ہاشم نے بھی مان لیا ہے؟ وہ کہنے لگا بنو ہاشم نے بھی مان لیا ہے۔اِس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد کہنے لگے اللہ! اللہ!محمد صلے اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے جن کے اثر کے نیچے ابو قحافہ کے بیٹے کو