تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 68

ہماری عورتیں اور بچے قرآن سے متاثر ہوتے جا رہے ہیں اگر یہی حالت جاری رہی تو تمام محلہ مسلمان ہو جائے گا۔پس یا تو اُسے سمجھائیں کہ وہ قرآ ن شریف بلند آواز سے نہ پڑھا کرے اور یا اپنی حفاظت واپس لے لیں۔وہ رئیس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ اس اس طرح کرتے ہیں جس پر محلہ والے سخت شکوہ کر رہے ہیں اور کہتے کہ اگر یہی طریق جاری رہاتو ہماری عورتیں اوربچے مسلمان ہو جائیں گے اس لئے آپ یہ کام چھوڑ دیں اور اندر بیٹھ کر قرآن شریف پڑھا کریں ورنہ مجھے اپنی حفاظت کو واپس لینا پڑے گا۔حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ آپ اپنی حفاظت بے شک واپس لے لیں میں اللہ اور ا س کے رسول کی حفاظت میں رہنا پسند کرتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب بنیان الکعبۃ باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ۔تاریخ الخمیس ھجرۃ ابی بکر الی الحبشۃ ) چنانچہ ابن الدغنہ وہاں سے آیا اور اُس نے اپنی حفاظت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔بعد میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے بھی ہجرت کے متعلق بدل گئی اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ جب آپ کو ہجرت کی اجازت ہو اُس وقت مجھے بھی آپ اپنے ساتھ لے چلیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس امر کو منظور فرما لیا(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ)۔ان حالات میں مسلمان مکّہ کے اندر اپنی زندگی کے دن بسر کیاکرتے تھے۔میں سمجھتا ہوںاگر مکہ والوں کے مظالم کی مثالیں جمع کی جائیں تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں نکل آئیں گی جن سے نہ صرف اُن مظالم کا پتہ لگ سکتا ہے جو اہل مکہ مسلمانوں پر کیا کرتے تھے بلکہ لوگوں کو یہ سبق بھی مل سکتا ہے کہ انہیں دین کی خاطر کس طرح قربانیوں سے کام لینا چاہیے۔اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کے لئے ہجرت کا پہلا مقام اس زمانہ میں جب مسلمان انتہائی تکلیف میں اپنی زندگی بسر کر رہے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا یقیناً یقیناً جو مسلمان اور مُتقی ہیں اُن کی مکروہات ایک دن دور ہو جائیں گی اور وہ تکلیف دہ باتیں جو آج پیدا ہو رہی ہیںخدا اُن سب کو مٹا دے گا اور وہ جگہیں اُن کو حاصل ہوں گی جہاں مکروہات اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گی۔جہاں کامیابی اُن کے پائوں چومے گی اور جہاں آرام اور آسائش کے دروازے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے لئے کھول دیئے جائیں گے چنانچہ پہلے خدا نے حبشہ کو مَفَازبنایا۔مسلمان وہاں ہجرت کرکےگئے اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے ہر قسم کے سامانِ راحت بہم پہنچا دیئے۔یہ سورۃ چونکہ ابتدائی مکّی سورتوں میں سے ہے اس لئے حبشہ کی ہجرت سے بھی پہلے کی ہے۔حبشہ کی ہجرت ۵ ؁ کے نصف میں ہوئی (الکامل فی التاریخ لابن اثیر زیر عنوان ذکر الھجرۃ الی ارض الحبشۃ) اور یہ سورۃ پہلے دو تین سال کی ہے پس اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا کے مطابق پہلا مقامِ فوز جو مسلمانوں کے لئے