تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 64

سے مراد قرآن مجید میں ’’عذاب دینا‘‘ ہوتا ہے سوائے وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا کی آیت کے وہاں ظاہری سزا مراد ہے۔(اقرب) اَلْعَذَابُ ھُوَالْاِیْجَاعُ الشَّدِیْدُ۔عذاب کے معنے ہیں سخت تکلیف دینا۔فَالتَّعْذِیْبُ فِیْ الْاَصْلِ ھُوَ حَمْلُ الْاِنْسَانِ اَنْ یَّعْذِبَ اَیْ یَجُوْعَ وَیَسْھَرَ یعنی اگر مادہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اُس کے معنے ہیںکسی کو بھوکا اور بیدار رکھنا۔کیونکہ عَذَبَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں۔اُس نے کھانا پینا ترک کر دیا۔وَقِیْلَ اَصْلُہٗ مِنَ الْعَذْبِ: فَعَذَّبْتُہٗ اَیْ اَ زَلْتُ عَذْبَ حَیٰوتِہٖ بعض نے کہا ہے کہ عذَاب عَذْبٌ سے نکلا ہے۔جس کے معنے میٹھے پانی کے ہیں اور تَعْذِیْب کے معنےاور عذّب کے معنے ہیں کہ اُسے زندگی کی حلاوت سے محروم کر دیا (مفردات) پس عَذَاب کے معنے ہوئے (۱) تکلیف (۲) ایسی چیز جو زندگی کی حلاوت سے محروم کر دے۔(۳)جو مقصود حیات سے محروم کر دے۔تفسیر۔مقہور قوموں کا دنیا میں یہی نقشہ ہوتا ہے جو اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ عذاب اُن سے ٹلے گا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ مقہور قومیں جب اپنی آزادی کے لئے کوشش کرتی ہیںتو وہ اور زیادہ عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہیںاور جب تک اُن کے غلبہ کا زمانہ نہیں آتاان کی ہر کوشش اپنے مقصد سے اور زیادہ دور کر دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس جنگ میں انگریز بار بار بلجیم اور فرانس والوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم جلدی اُٹھنے کی کوشش نہ کرو۔اگر تم جلدی اُٹھنے کی کوشش کرو گے تو اَور زیادہ مصیبت میں مبتلا ہو جائو گے چنانچہ جب بھی وہ اپنی آزادی کے لئے کوشش کرتے ہیں جرمن انہیں اور زیادہ تکلیفیں دینی شروع کر دیتے ہیں۔فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ میں اسلام کے دشمنوں کی ناکامی کی طرف اشارہ پس فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا کا یہ مطلب ہے کہ جب تک اسلام کے غلبہ کا زمانہ ہے تمہاری کوششیں بیکار ہیں جب تک خاموشی سے بیٹھے رہو گے بیٹھے رہو گےلیکن جب تہوّر سے کام لے کر مسلمانوں کے مقابلہ میں اُٹھو گے اُس وقت تم اپنا ہی نقصان کرو گے اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔قیامت کے لحاظ سے بھی یہ معنی ٹھیک ہیں۔انسان پر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اس کی تکلیف بڑھتی جاتی ہے پہلے دن بخار کی حالت اَور ہوتی ہے دوسرے دن اَور۔اور جب بخار لمبا ہو جائے تو مریض کی بالکل اورحالت ہو جاتی ہے۔پس عذاب کا زمانہ جتنا لمبا ہوتا چلا جائے گا اُن کی تعذیب بھی بڑھتی چلی جائے گی۔پس اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ اُن کی نجات نہیں ہو گی بلکہ مراد یہ ہے کہ عذاب کے وقت وہ عذاب میں ہی