تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 511

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ۰۰۲۴ اور اللہ اسے جسے وہ (اپنے دلوں میں) چھپائے ہوئے ہیں۔خوب جانتا ہے۔حَلّ لُغَات۔یُوْعُوْنَ یُوْعُوْنَ اَوْعٰی سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور اَوْعٰی الشَّیءَ وَالْکَلَامَ کے معنی ہوتے ہیں حَفِظَہٗ وَجَمَعَہٗ کسی کلام کو یاد کیا۔اور اکٹھا کیا۔اور جب اَوْعَی الزَّادَ وَالْمَتَاعَ کہیں تو معنی ہوتے ہیں جَعَلَہٗ فِی الْوِعَائِ وَجَمَعَہٗ فِیْہِ کہ سامان کو تھیلے میں رکھا اور محفوظ کیا۔(اقرب) پس یُوْعُوْنَ کے معنی ہوں گے (۱)حفظ کرتے ہیں اور جمع کرتے ہیں (۲)محفوظ کرتے ہیں۔تفسیر۔اللہ خوب جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا کچھ بھرا ہوا ہے۔قرآن ان کے دلوں سے نکل جائے گا۔اور یہی باقی رہ جائے گا کہ فلاں نے یہ کہا ہے فلاں نے یہ لکھا ہے۔یُوْعُوْنَ کے ایک معنی حفظ کے بھی ہیں۔چنانچہ اَوْعٰی الشَّیءَ اَوِ الْکَلَامَ کے معنی ہوتے ہیں حَفِظَہٗ وَجَمَعَہٗ اس نے حفظ کیا۔اور جمع کیا۔پس وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے دوسروں کے اقوال جو حفظ کر رکھے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔یا ان کے دلوں میں جو کچھ بھرا ہے اسے وہ خوب جانتا ہے۔فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ۰۰۲۵ پس (ان کے مخفی خیالات اور ظاہر اعمال کی وجہ سے)انہیںدردناک عذاب کی خبر دے دے۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے تو ان کو فائدہ پہنچانے کے لئے یہ سب انتظام کیا تھا ہم چاہتے تھے کہ نور سے ان کو حصہ ملے۔اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر چلنا ان کے لئے آسان ہو۔مگر وہ تاریکی کے کونوں میں بیٹھے رہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے نور سے مونہہ پھیر لیا۔اس کی برکات کو رد کر دیا۔اور خدا تعالیٰ کے احسان پر سجدۂ شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی آیات کی تکذیب کی۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بہت بڑے دکھ میں مبتلا کئے جائیں گے۔