تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 510
یہ بھی معنے ہیں کہ اس وقت قرآن آسمان پر جا چکا ہو گا۔تب ایک بدری وجود قرآن کو پھر واپس لائے گا۔مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا اس عظیم الشان نعمت کے واپس ملنے پر بھی کوئی شکر ادا نہیں کریں گے۔کہ اس نے ان پرکتنا بڑا رحم کیا۔کتنا بڑا انعام کیا۔کہ ان کے مذہب کو اس نے بچا لیا۔اور انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرتے گرتے تھام لیا۔اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُکا وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ کے ساتھ کوئی جوڑ ہی نہیں بنتا لیکن ہم حدیث صحیح سے اس کا جوڑ بتا سکتے ہیں۔جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن کی تعلیم مٹ جائے گی۔ایمان ثریا پر چلا جائے گا لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہٗ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب العلم) اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا۔معارف اور حقائق اور علوم سب آسمان پر اٹھ جائیں گے تب ایک فارسی الاصل انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو گا جو ایمان کو ثریا سے واپس لائے گا۔اور قرآنی علوم کو زندہ کر دے گا۔پس ہم اس آیت کے جو معنے کرتے ہیں وہ پورے طور پر یہاں چسپاں ہو جاتے ہیں۔لیکن اور لوگ اس کے کیا معنی کر سکتے ہیں۔وہ شفق اور لیلؔ اور قمرؔ کے ساتھ قرآن کا کوئی جوڑ بتا ہی نہیں سکتے۔بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ۰۰۲۳ بلکہ (بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ) جنہوں نے اس قرآن کا کفر کیا ہے۔وہ تو (اسے) جھٹلاتے ہیں۔تفسیر۔بَلْ کے معنی زیادتی کے ہیں یعنی صرف یہی بات نہیں کہ وہ قرآن کے دوبارہ نزول پر خدا تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا نہیں کرتے۔اور اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے۔بلکہ الٹے تکذیب کرنے لگ جاتے ہیں۔یعنی بجائے اطاعت شعاری سے کام لینے کے وہ اس موعود کی تکذیب کریں گے۔وہ قرآن کی آیتیں پیش کرے گا۔مگر یہ لوگ کہیں گے ہم ان آیتوں کو نہیں مانتے۔