تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 507
پھر آپ مخالفین کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’ مقدریوں ہے کہ وہ لوگ جو اِس جماعت سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہوتے جائیں گے۔اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اِس سلسلہ سے باہر ہیں۔وہ دن بدن کم ہو کر اس سلسلہ میں داخل ہوتےجائیںگے یا نابود ہوتے جائیں گے جیسا کہ یہودی گھٹتے گھٹتے یہاں تک کم ہو گئے۔کہ بہت ہی تھوڑے رہ گئے۔ایسا ہی اِس جماعت کے مخالفوں کا انجام ہو گا اور اِس جماعت کے لوگ اپنی تعداد اور قوتِ مذہب کے رو سے سب پر غالب ہو جائیں گے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۹۵) غرض مسیح موعود کا زمانہ تیرہویں صدی سے شروع ہو کر سولہویں صدی کے آخر تک پہونچے گا۔اور یہی لغت والے کہتے ہیںکہ اتساق کے معنی یہ ہیں کہ وہ چاند جو تیرھویں سے سولہویں تک جاتا ہے۔اگر یہاں صرف بدر کا لفظ رکھ دیا جاتا۔تو مضمون میں وہ وسعت پیدا نہ ہوتی۔جو وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ کے الفاظ سے پیدا ہوئی۔کیونکہ اتساق کا لفظ رکھ کر مسیح موعود کے زمانہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے۔کہ تیرھویں صدی میں وہ پیدا ہو گا۔چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہو گا۔اور سولہویںصدی کے آخر تک اس کا اثر ترقی کرتا جائے گا۔فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۲۱ پھر ان (لوگوں )کو کیا ہوا ہے۔کہ ایمان نہیں لاتے۔تفسیر۔فَمَا لَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ۔یعنی اس زمانہ کے لوگوں کو کیا ہو گیا۔یہ کہہ سکتے تھے کہ اتساق کے زمانہ کا ہم کو پتہ نہیں۔کہ وہ کب ہو گا۔یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تو بدر کامل کا ظہور نہیں دیکھا۔مگر یہ لوگ شفق اور لیل کو تو دیکھ چکے تھے۔اور اس پر قیاس کر کے سمجھ سکتے تھے۔کہ جب شفق بھی آچکی اور لیل بھی ظاہر ہو گئی۔تو وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ کی پیشگوئی کے پُورا ہونے کا وقت بھی آ جائے گا۔مگر وہ تولیل کو دیکھ کر بالکل مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔اور یہ خیال کرنے لگ گئے کہ اب اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔پس تعجب ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔انہوں نے شفق کو بھی دیکھا۔انہوں نے لیل کو بھی دیکھا۔مگر یہ نہ سمجھا۔کہ بدر کامل کا ظہور بھی مقدر ہے۔لَایُؤْمِنُوْنَ ایمان نہیں لاتے۔یعنی اِس بات پر ایمان نہیں لاتے کہ بدر اِس تاریک وتاررات پر چھا جائے