تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 490
قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ جماعت میں مشقت طلب کاموں کی عادت پیدا ہو۔اور ہر فرد کسی نہ کسی کام میں مشغول رہے۔پس يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک ہر انسان اپنے آپ کوکام کرتے کرتے فنا نہیں کر دیتا۔اس وقت تک قومی طور پر خدا نظر نہیں آ سکتا۔انفرادی طور پر بے شک کدح کے بعد انسان کو لقاء الٰہی حاصل ہو جاتا ہے۔مگر قومی طور پر اسی وقت لقاء الٰہی کی نعمت حاصل ہوتی ہے جب قوم کا ہر فرد اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے۔دنیا میں لقاء الٰہی د و طرح حاصل ہوتا ہے۔ایک فردی طور پر اور ایک قومی طور پر۔اگر قوم تباہ بھی ہو چکی ہو تب بھی فردی طور پر انسان خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کر سکتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے قبل باوجود اس کے کہ مسلمان قومی طور پر تباہ وبربادہو چکے تھے۔ان میں بعض بزرگ پائے جاتے تھے۔مثلًا حضرت عبداللہ غزنوی کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وہ بزرگ انسان تھے(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۵۰)۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے حضرت مجدد صاحب بریلوی یا حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید اور اسی طرح بعض اور بزرگ گزرے ہیں۔مگر یہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے چند نفوس تھے۔جو خدا تعالیٰ سے ملے اِن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کے لئے بھیجا تھا کہ اسلام اب بھی اپنے اندر طاقت رکھتا ہے اور اب بھی وہ لوگوں کو زندہ کر سکتا ہے۔اب بھی وہ انہیں خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچا سکتا ہے۔مگر قومی طور پر ان کے وجود سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔پس حضرت سید احمد صاحب بریلوی کیا تھے۔وہ درحقیقت حُجّت تھے سستوں پر۔وہ حجّت تھے غافلوں پر اور وہ یہ بتانے کے لئے بھیجے گئے تھے کہ اسلام اب بھی اپنے اندر زندگی بخش اثرات رکھتا ہے۔اسی طرح حضرت سید اسمٰعیل صاحب شہیدؓ کیا تھے وہ حجّت تھے سستوں پر۔وہ ججّت تھے غافلوں پر۔اور وہ یہ بتانے کے لئے بھیجے گئے تھے کہ اسلام اب بھی اپنے اندر زندگی بخش اثرات رکھتا ہے۔مگر بحیثیت قوم اسلام کو ان کے وجود سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔کیونکہ اسلام نام تھا چالیس کروڑ افراد کا جن میں سے کوئی چین میں رہتے تھے کوئی جاپان میںرہتے تھے۔کوئی سماٹرا اور جاوا میں رہتے تھے۔اور کوئی دوسرے ممالک میں رہتے تھے اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں ان لوگوں کی کوئی آواز نہیں پہنچی۔یوں ہماری جماعت بھی ابھی چھوٹی سی ہے۔مگرہماری جماعت وُہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے پس وہ لوگ صرف غافلوں پر حجت تھے۔اور اس بات کی دلیل تھے کہ خدا اب بھی لوگوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ورنہ ان کے زمانہ میں قومی طور پر مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے چہرہ کو نہیں دیکھا۔