تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 477
میں درحقیقت سوال اور جواب دونوں آگئے ہیں مگر قرآن کریم کا یہ ایک نہایت ہی لطیف طریق ہے کہ وہ بعض دفعہ سوال چھوڑ دیتا ہے اور جواب دے دیتا ہے اور بعض دفعہ ایک حصہ بات کا بیان کر دیتا ہے اور دوسرا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ حصہ بیان کر دہ حصہ کی وجہ سے خودہی سمجھ میں آجاتا ہے۔مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَمیں مضمون کا پہلا حصہ حذف ہے مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَکی آیت سارے مضمون کا ایک حصّہ ہے۔بقیّہ حصہ محذوف ہے جو یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں دوسروں کے ملکوں پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے سپُرد یہ کام نہ کیا تھا کہ یہ دوسرے ملکوں میں گُھس کر اُن پر قبضہ کریں اور عذر یہ کریں کہ ہم تو اس کی حفاظت کے لئے آئے ہیں گویا یہ خدا تعالیٰ کے مقرّر کردہ داروغہ ہیں۔فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَۙ۰۰۳۵ پس جو ایمان لائے (وہ) اس (جزاء سزا کے) دن کفار پر ہنسیں گے۔تفسیر۔يَضْحَكُوْنَسے مرادہنسی کا بدلہ لینے کے فرماتا ہے اُس دن یا اگر فرض کیا جائے کہ وہ دن ذہن میں مستحضر کر کے بات کی جاتی ہے تو یُوں کہا جائے گا کہ آج کے دن مومن کفار سے اُن کی ہنسی کا بدلہ لیں گے۔مومن کی یہ شان نہیں ہوتی کہ وہ ہنسی اُڑائے یا تمسخر اور استہزاء سے کام لے۔قرآن کریم نے اس کو جہالت کا کام قرار دیا ہے۔پس یہاںيَضْحَكُوْنَکے معنے ہنسی کرنے کے نہیں بلکہ ہنسی کا بدلہ لینے کے ہیں۔عَلَى الْاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنْظُرُوْنَؕ۰۰۳۶ چھپرکھٹوں پر بیٹھے ہوئے (ان کا سب حال) دیکھ رہے ہوں گے۔تفسیر۔یہاں پھر گزشتہ مضمون کو دُہرا دیا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے کس رنگ میں اُن سے بدلہ لیں گے۔بُرے رنگ میں نہیں بلکہ اس اچھے رنگ میں کہ انہوں نے تو تختوں پر بیٹھ کر ظلم کئے تھے مگر وہ تختوں پر بیٹھ کر انصاف کریں گے۔اور دیکھیں گے کہ کسی سے ناانصافی تو نہیں ہو رہی۔یَنْظُرُوْنَسے مراد نگرانی کرنا یَنْظُرُوْنَ کے معنے اس جگہ نگرانی اور تعہد کے لئے جائیں گے کہ مومن اُس دن ہر معاملہ پر نظر رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ کسی پر ظلم نہ ہو۔