تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 476
وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ۰۰۳۳ اور جب (بھی) انہیں دیکھتے تھے کہتے تھے کہ یہ لوگ تو (بالکل) گمراہ ہیں۔تفسیر۔رَاَوْھُمْمیں ھم کی ضمیر کا مرجع رَاَوْھُمْ کی ضمیر دونوں طرف جا سکتی ہے یعنی اَھْل کی طرف بھی اور مومنین کی طرف بھی۔یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اِذَا رَاَوْ اَھْلَھُمْ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِذَا رَاَوْ الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی بعض حالتوں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف تغامز کرتے ہیں۔لیکن بعض حالتوں میں وہ مومنوں کو دیکھ کر رُک نہیں سکتے بلکہ ایک دُوسرے کو کہتے ہیں کہ یہ لوگ بڑے گمراہ اور بے وقوف ہیں اور چونکہ رَاَوْھُمْ کی ضمیر اَھْل کی طرف بھی جاتی ہے اس لئے اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اِن لوگوں کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے اِن سے ترقی کی امید کرنا بالکل غلط ہے۔یہ لوگ آخر تباہ و برباد ہی ہوں گے۔دنیا میں کوئی نیک تغیّر پیدا نہیں کر سکتے۔اس صورت میں اُن کی یہ بات پہلی بات کی ضِد ہو گی۔یعنی اُن کی حالت یہ ہے کہ وہ سامنے تو تغامز کرتے ہیں ایک پادری بھی آجائے تو وہ کہے گا کہ آپ لوگ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں لیکن جب اپنی قوم میں جاتے ہیں تو اسلام کے خلاف بڑی سخت کتابیں لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ تو بالکل گمراہ ہیں۔وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَؕ۰۰۳۴ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔تفسیر۔مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَمیں مغربی اقوام کے ایک خاصہ کی طرف اشارہ یہ بھی مغربی اقوام کی ایک خصوصیت ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی حفاظت کے بہانہ سے اُن پر قبضہ کرتے چلے جاتے ہیں۔اور جب پوچھو کہ تم نےفلاں ملک پر کیوں قبضہ کیا؟ تو کہتے ہیں ہم نے تو اُس ملک کی حفاظت کے لئے یہ کام کیا ہے۔انہوں نے اسی حفاظت کے بہانہ سے ہندوستانؔ لے لیا اور اسی حفاظت کے بہانہ سے افریقہ اور دوسرے ممالک پر قبضہ کر لیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ لوگ دوسروں کے محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے تھے پھر یہ کیوں ایسا کرتے ہیں کہ ہر ملک میں دخل دینا شروع کر دیتے ہیں اور اس کی حفاظت کا بہانہ بنا کر اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اس آیت