تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 459

یاد آ گیا اور اُس نے کہا اَشْھَدُ اَنْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔دوسرا دیکھنا ایسا ہوتا ہے جیسے روحانی طور پر اللہ تعالیٰ بندے کے قلب پر اپنے آپ کو نازل کر کے یقین کامل کا مقام پیدا کر دیتا ہے۔مگر یہ دیکھنا پہلے دیکھنے کے بعد ہوتا ہے کیونکہ قلبی روئت میں بعض دفعہ شبہ پیدا ہو اجاتا ہے کہ وہ خیالی یا وہمی تو نہیں۔اس لئے جب اللہ تعالیٰ ارد گرد نشانات دکھا لیتا ہے تو پھر انسانی قلب پر نازل ہوتا ہے اور چونکہ ایسا شخص پہلے صفات الٰہیہ کو اپنے اردگرد دیکھ چکا ہوتا ہے اس لئے جب یہ ظہور اس کے سامنے آتا ہے تو اُسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یقین کامل پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی بیان فرمایا ہے کہ وَفِی الْاَرْضِ اٰیَاتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (الزاریات:۲۱،۲۲) یہاں پہلے فِیْ الْاَرْضِ اٰیٰتٌ فرمایا ہے اور پھر وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ کو بیان فرمایا ہے پس اللہ تعالیٰ کی یہی سنّت ہے کہ وہ پہلے اردگرد نشانات دکھاتا ہے اور پھر انسانی قلب پر اپنی تجلّی نازل کرتا ہے تا کہ وہ دھوکا میں نہ رہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ آپ پر وحی کا ابتداء رویاء صالحہ سے ہوا جو فلق الصبح کی طرح پوری ہوتی تھیں (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ)۔اس قسم کے حالات اللہ تعالیٰ خود ہی پیدا کرتا ہے تا کہ وحی و الہام کا مورد بھی کوئی شُبہ نہ کرے اور لوگ بھی یہ نہ کہیں کہ یہ پاگل ہو گیا اس کے بعد قلب پر تجلّی نازل ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ کی جو تجلّیا ت ہوئیں اُن میں بھی اسی تدریج کا پہلو نظر آتا ہے۔پہلے اس قسم کے الہامات نازل ہونے شروع ہوئے کہ ’’ آج حاجی ارباب محمد لشکر خاں کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے‘‘ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۵) یا ’’ڈگری ہو گئی ہے مسلمان ہے‘‘ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۵۹) اور جب تواتر کے ساتھ اِن الہامات نے پورا ہو کر ادھر لوگوں کو آپ کی سچائی کی طرف متوجہ کر دیا اور اُدھر آپ کے دل میں یقین پیدا ہو گیا تو اس کے بعد آخری تجلّی ہوئی۔غرض اللہ تعالیٰ پہلے سے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ دُور بین نگاہ رکھنے والا سمجھنا شروع کر دیتا ہے کہ پردۂ قدرت سے اب کچھ ظاہر ہونے والا ہے۔پس عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ جو ادنیٰ مومن ہیں وہ خدا تعالیٰ کی اس تجلّی کو دیکھیں گے جو اردگرد ہوتی ہے اور جو کامل مومن ہیں وہ خدا تعالیٰ کی اُس تجلی کو دیکھیں گے جو اُن کے اپنے نفس میں ظاہر ہو گی۔عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَمیں صحابہ کے خصائص کی طرف اشارہ یہ تو پہلے معنوں کے الف اور باء دو حصے تھے مگر اس کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ یَنْظُرُوْنَ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ آرائک اور سُرُر تو سونے کا مقام ہوتے ہیں۔انسان اُن پر لیٹتا ہے اس لئے کہ وہ آرام کرے یا اس لئے کہ وہ سو کر اپنی کوفت کو