تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 458
اُس دن کافر اپنے رب سے محجوب ہوں گے یعنی اپنے رب کی شکل اُن کو نظر نہیں آئے گی۔جب فجّار کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا کہ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ تو ضروری تھا کہ اس کے بعد ابرار کا ذکر کر کے بتایا جاتا کہ اُن کا کیا حال ہو گا۔سو اس کے مقابلہ میں فرما دیا کہ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ۔عَلَى الْاَرَآىِٕكِ اِلٰی رَبِّھِمْ يَنْظُرُوْنَ پس یَنْظُرُوْنَ سے مراد وہی چیز لی جائے گی جس کے متعلق پہلی آیات میں قرینہ موجود ہے اسی وجہ سے جس چیز کو دیکھنا ہے اُس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کیا اور مراد یہ ہے کہ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ۔عَلَى الْاَرَآىِٕكِ اِلَی رَبِّھِمْ يَنْظُرُوْنَ پس یَنْظُرُوْنَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ مومن اپنے رب کو دیکھیںگے۔محجوب نہیں ہوں گے۔یہ دیکھنا دو طرح ہوتا ہے۔ایک صفاتی نظری یعنی صفاتِ الٰہیہ کا ظہور بیرونی دنیا میں۔جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ خدا یاد آگیا۔جب کوئی بڑی مصیبت ظاہر ہو یا کوئی بڑا تغیّر رونما ہو یا ایسے حالات پیدا ہوں جو غیر معمولی ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ خدا یاد آگیا۔یہ بھی محاورہ ہے کہ خدا نظر آگیا۔پس اِلَی رَبِّھِمْ یَنْظُرُوْنَ کے ایک معنے یہ ہوئے کہ جب وقت آئے گا تو ایسے عظیم الشان تغیّرات خدا تعالیٰ پیدا کر دے گا کہ جس شخص کے اندر ذرا بھی ایمان ہو گا وہ کہے گا کہ یہ تغیّر خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی نے نہیں کیا۔اس کی مثال موجود ہے۔حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے والد مکّہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مدینہ سے ایک شخص وہاں جا نکلا۔انہوں نے اُس سے کہا کہ سنائو مدینہ کا کیا حال ہے؟ـ اُس نے جواب میں کہا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔حضرت ابو بکرؓ کے والد نے پوچھا پھر کیا ہوا؟ اُس نے کہا لوگوں نے ایک شخص کو خلیفہ منتخب کر لیا ہے۔انہوں نے پوچھا کس کو؟ اُس نے جواب دیا ابوبکر کو۔اس پر انہوں نے پوچھا کون ابوبکر؟ اُس نے جواب دیا ابن ابی قحافہ۔اس پر انہوں نے مختلف خاندانوں کا نام لیا کہ فلاں فلاں بڑے خاندانوں کے لوگوں نے مان لیا؟ اُس نے کہا ان قبائل نے بھی بیعت کر لی ہے۔جب یہ ساری بات ہو گئی تو حضرت ابو بکرؓ کے والد بے اختیار کہہ اٹھے اَشْھَدُ اَنْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔(الطبقات الکبریٰ ذکر بیعۃ ابی بکر ) میں گواہی دیتا ہوں کہ واقعہ میں خدا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو مکّہ کے لوگ جو دوسرے کی اطاعت نہیں کر سکتے تھے۔جو کسی کی بات تک نہیں مانتے تھے اور پھر بڑے بڑے قبائل اور خاندانوں کے لوگ ابو بکرؓ کو کس طرح اپنا خلیفہ مان لیتے۔اسی طرح انصار اپنے شہر میں رہتے تھے اور ایسی حالت میں ان کو خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ حکومت ہمارے ہاتھ میں آنی چاہیے مگر مدینہ میں بیٹھے ہوئے انہوں نے مکہ کے ایک شخص ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔تو فرماتا ہے ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ لوگ کہیں گے ہمیں خدا نظر آگیا جس طرح ابو قحافہ کو ابو بکرؓ کی خلافت پر خدا