تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 381

یہاں تو کفار کا ذکر ہے خدا تعالیٰ اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ان لوگوں نےاتنا بڑا جرم کیا ہے جس سے آسمان پھٹ گیا ہے مگر بنایا یہ جا رہا ہے کہ خدا نے آگے انہیں خود ہی جواب سکھا دیا ہے کہ تمہارا جرم بے شک سخت ہے مگر مجھے یہ جوا ب دے دینا تو مَیں تمہیں معاف کر دُوں گاایسے خطرناک عذاب کے وقت تو اس قسم کی راز و نیاز کی باتوں کی طرف خیال بھی نہیں کیا جا سکتا مگر نہ معلوم صوفیاء کو کیا سوجھا کہ اس آیت سے انہوں نے یہ نکتہ نکال کر پیش کر دیاحالانکہ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ربّ کریم کے سامنے تو تمہیںشرم کرنی چاہیے تھی مگر تم ایسے گستاخ اور بے ادب نکلے کہ تم نے اپنے رب کریم کی بھی پروا نہ کی۔خود رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کریم سے شرم کی جاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپؐ کی ٹانگوں کا کچھ حصہ ننگا تھاکہ حضرت ابو بکرؓ آئے اور بیٹھ گئے پھر حضرت عمرؓ آئے اور بیٹھ گئے مگر آپؐ نے کوئی پرواہ نہ کی۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت عثمانؓ نے دستک دے دی۔آپ فوراً اٹھ بیٹھے اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانک لیا اور فرمایا عثمانؓ بہت شرمیلا ہے اُس کے سامنے ٹانگ کا کچھ حصہ ننگا رکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔چنانچہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں اَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِیْ بَیْتِہٖ کَاشِفًا عَنْ فَـخِذَیْہٖ اَوْسَاقَیْہِ فَاسْتَاْذَنَ اَبُوْ بَکْرٍ فَاَذِنَ لَہٗ وَھُوَ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اِسْتَاْذَنَ عُمَرُ فَاَذِنَ لَہٗ وَھُوَ کَذٰلِکَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اَسْتَاْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلَّ اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَسَوَّیٰ ثِیَابَہٗ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَۃُ دَخَلَ اَبُوْ بَکْرٍ فَلَمْ تَھْتَشَّ لَہٗ وَلَمْ تُبَالِہٖ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَھْتَشَّ لَہٗ وَلَمْ تُبَالِہٖ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّیْتَ ثِیَابَکَ فَقَالَ اَلَا اَسْتَحْیٖ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْییٖ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل عثمان بن عفان) یعنی حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم گھر میںلیٹے ہوئے تھے۔اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا اسی حالت میں ابو بکرؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ؐاسی طرح لیٹے رہے۔اور آپؐ نے اجازت دے دی اور ان سے گفتگو فرماتے رہے۔پھر عمرؓ آئے۔اور انہوں نے اجازت طلب کی اور آپؐ نے اجازت دے دی اور اسی طرح لیٹے رہے۔پھر تھوڑی دیر بعد عثمانؓ آئے تو نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے کو درست کر لیااور ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی جب سب چلے گئے تو حضرت عائشہ نے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ابو بکر آئے اور عمر آئے تو آپ ؐنے ان کی آمد پر خاص پروا نہ کی اور اسی طرح لیٹے رہے جیسے لیٹے تھے۔لیکن عثمان کی آمد پر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے ٹھیک کر لئے۔آ پؐ نے جواب دیا