تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 380
ہیںکہ وہ کہتے ہیںيٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ میں انسان سے سوال کیا گیا ہے کہ تجھے کس چیز نے مغرور کیا تھا مگرآگے الْکَرِیْم کا لفظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب سکھا دیا ہے کہ کہہ دینا کریم خدا کی بخشش اور عفو نے ہمیں یہ جرأت دلا دی تھی۔لیکن مشاہدہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بخشش اور عفو کی وجہ سے انہیں گناہوں پر دلیری نہیں ہوئی بلکہ ان کی دلیری کی وجہ یہ تھی کہ وہ شیطان کے پیچھے چل پڑے اور خدا تعالیٰ کے نافرمان بن گئے یا یہ کہ اُن سے یہ گناہ ان کی جہالت کی وجہ سے سرزد ہوئے۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھتے اس کی اطاعت کی قدر وقیمت کو جانتے اور بصیرت سے کام لیتے تو ایسے افعال کے وہ مرتکب نہ ہوتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومن خدا تعالیٰ کو کریم سمجھتا ہے اور وہ اس کی بخشش اور عفو پر ہر لحظہ یقین رکھتا ہے مگر گناہوں کے ارتکاب کی اسے وجہ قرار دینا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کی بڑی وجہ انسان کی جہالت ہوتی ہے فرماتا ہے مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (الانعام:۵۵) یعنی جو کوئی تم میں سے نادانی سے کچھ برائی کا کام کرےگا۔پھر اس کے بعد توبہ کر لے گا۔اور نیک کام کرنے لگے گا تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔پس جو شخص بھی گناہ کرتا ہے درحقیقت جہالت سے کرتا ہے۔دیدہ ودانستہ تو وہی گناہ کرے گا جو کافر ہو گا۔اس لئے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو شیطان کی اتباع مغرور کر دیتی ہے یا اس کی جہالت اسے دھوکا دےدیتی ہےمگریہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس جرأت اور غرور کا موجب خدا تعالیٰ کا کرم اور بخشش ہوتی ہے سوائے اس کے کہ اسے ایک غیر طبعی نتیجہ قرار دیا جائے جو خود ایک نفس کی بیماری کہلائے گا۔خدا تعالیٰ کے کرم کے نتیجہ میں انسان اپنے ایمان اور اپنے عرفان میں ترقی کیا کرتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں پر دلیر ہو جائے پس یہ بالکل غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کرم انسان کے لئے گناہوں پر جرأت کرنے کا موجب ہو جائے بے شک مومن خدا تعالیٰ کے کرم پر بڑا یقین رکھتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا ہمیشہ امیدوار ہتا ہے۔مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِکا مخاطب مومن نہیں بلکہ کا فر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس بات کے بیان کرنے کا کون سا موقع تھا یہاں تو کفار کا ذکر ہو رہا ہے لیکن ہمیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کفّار سے کہے گا کہ جب میں تمہارے گناہوں کی تم سے پرسش کروں تو تم مجھے کہہ دینا۔آپ جو کریم خدا تھے آپ کے کرم نے ہی ہمیں مغرور کر دیا تھا۔کیا کوئی عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ ایک طرف کفّار کے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہو اور دوسری طرف یہ راز ونیاز کی باتیں بھی ہو رہی ہوں مومنوں کا ذکر ہوتا تب تو کسی حد تک یہ بات معقول بھی قرار دی جا سکتی تھی مگر