تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 377
بادشاہ کبھی تعریف سے ناراض ہو جاتے ہیں اور کبھی گالی پر خلعت دے دیتے ہیں۔مگر ایسی باتوں سے کوئی اصول مستنبط نہیں ہو سکتا یہی کہنا پڑتا ہے کہ مختلف انسان مختلف رنگ کا مذاق رکھتے ہیں اور پھر ان کی حالتیں بھی مختلف اوقات میں بدلتی رہتی ہیں اس لئے کبھی کسی بات سے وہ خوش ہو جاتے ہیں اور کبھی کسی بات سے بگڑ جاتے ہیں جہانگیر کا واقعہ ہی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے نور جہان کے ہاتھ میں دو کبوتر پکڑا دیئے اتفاقًا ایک کبوتر نور جہاں کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جہانگیر واپس آیا تو اس نے پوچھا کہ دوسرا کبوتر کہاں گیا۔اس نے کہا اُڑ گیا ہے۔جہانگیر نے غصّہ سے پوچھاکس طرح اُڑ گیا۔اُس نے دوسرا کبوتر بھی اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا اور کہا کہ اس طرح۔جہانگیر کو اس کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ وہ اسی وقت سےاس پر عاشق ہو گیا اور چونکہ باپ کی مخالفت کی وجہ سے اس سے شادی نہ کر سکا باپ کے مرنے کے بعد اس کے بیوہ ہونے پر اس سے شادی کر لی(تاریخ ہندوستان مولوی ذکاء اللہ جلد ششم صفحہ ۷۳زیر عنوان نور جہان و جہانگیر کا نکاح)۔تو بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ کسی کی بُری بات بھی اچھی لگتی ہے لیکن یہ آیت کی تفسیر نہیں کہلا سکتی۔ممکن ہے حضرت علیؓ نے ایک بچہ کے مُنہ سے جب یہ بات سُنی ہو تو خواہ یہ گستاخی کا ہی رنگ رکھتی ہو مگر آپ نے یہ دیکھ کر کہ اس نے اپنے بچائو کے لئے کیسا عجیب طریق اختیار کیا ہے آپ نے اسے آزاد کر دیا مگر بہرحال یہ ایک انفرادی واقعہ ہے۔قرآن کریم کی تفسیر ایسے واقعات سے نہیں کی جا سکتی۔ایک سبق آموز واقعہ اسی سلسلہ میں امام قشیری نے اپنی کتاب شرح الاسماء میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے جس سے نصیحت کا پہلو بھی نکلتا ہے مجھے یہ واقعہ بہت پسند آیا اور گو یہ واقعہ بھی میرے نزدیک ہر گز یہاں چسپاں نہیں ہوتا مگر یہ بتانے کے لئے کہ انسانی فطرت سزا سے بچنے کے لئے کیا کیا حیلے نکال لیتی ہے اس کو بیان کرتا ہوں وہ لکھتے ہیں کسی بزرگ نے بیان کیا ہے کہ مَیں بصرہ کے بازار میں سے گزر رہا تھا کہ اچانک مَیں نے ایک جنازہ دیکھا جس کے ساتھ صرف چار آدمی تھے مَیں نے کہا بصرہ میں ایک مسلمان مر جائے اور اُس کے جنازہ کے ساتھ صرف چار آدمی اور وہ بھی چارپائی اُٹھانے والے ہوں یہ تو بہت بُری بات ہے۔مَیں اس کے جنازہ کے ساتھ ضرور جائوں گا۔چنانچہ مَیں بھی ساتھ ہو لیا جب وہ لوگ نعش کو دفن کر کے واپس آنے لگے تو مَیں نے اُن سے کہا یہ کیا بات ہے کہ بصرے جیسے بڑے شہر میں ایک مسلمان مرتا ہے اور اس کے جنازہ کے ساتھ صرف چار آدمی آتے ہیں وہ کہنے لگے ہم چاروں بھی جنازہ کی نیت سے نہیں آئے ہم تو مزدور ہیں یہ عورت جو سامنے کھڑی ہے ہمیں مزدوری پر لائی ہے پس ہم بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے نہیں آئے بلکہ مزدوروں کی حیثیت سے آئے ہیں۔وہ کہتے ہیں اس جواب سے میری حیرت اور بھی بڑھ گئی کہ پہلے تو میں سمجھتا تھا بصرہ کے کم از کم چار مسلمان تو اس جنازہ کے ساتھ آئے ہیں مگر اب