تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 376
اُس سے انہوں نے استدلال کر لیا۔اگر وہ دیکھتے کہ اس سورۃ میں صرف دشمنانِ اسلام کا ذکر ہو رہا ہے تو وہ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ کو کبھی مسلمانوں پر چسپاں نہ کرتے۔ہمارے ملک میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ ع کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ اگر اس فقرہ کو استعارۃً کسی وقت استعمال کر لیا جائے اور ’’کردگستاخ‘‘ سے مراد گستاخی نہ لی جائے بلکہ بے تکلّفی مراد لی جائے اور یہ سمجھا جائے کہ جس سے انسان بے تکلّف ہوتا ہے اس سے بے تکلّفی میں بعض دفعہ ایسی بات بھی کہہ لیتا ہے جو دوسری حالت میں نہیں کہی جا سکتی تو اور بات ہے لیکن اگر گستاخی سے حقیقی گستاخی مراد ہو تو یہ قطعًا غلط ہے۔کرم انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتا بلکہ اس کے اندر محبت اور اطاعت کا مادہ زیادہ پیدا کر دیا کرتا ہے۔یُوں تو اس فقرہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی استعمال کیا ہے (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۲) اور ہم بھی بعض دفعہ یہ فقرہ استعمال کر لیتے ہیں مگر واقعہ یہی ہے کہ جہاں کرم ہو وہاں کرم انسان کو حقیقی طور پر گستاخ نہیں بنا سکتا۔اس آیت کے ضمن میں مفسّرین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنے ایک نوکر کو آواز دی مگر وہ نہ بولا۔آپ نے بار بار آواز دی مگر پھر بھی اس نے کو ئی جواب نہ دیا تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکا اتفاقًا آپ کو سامنے نظر آگیا تو آپ نے اس سے پُوچھا مَالَکَ لَمْ تُـجِبْنِیْ کہ تجھے کیا ہو گیا کہ مَیں نے تجھے اتنی بار بلایا مگر تُو پھر بھی نہیں بولا۔قَالَ لِثِقَتِیْ بِحِلْمِکَ وَاَمْنٍ مِنْ عَقُوْبَتِکَ فَاسْتَحْسَنَ جَوَابَہٗ وَاُعْتَقَہٗ (الکشاف زیر آیت ھذا) اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے آپ کی نرمی کا یقین تھا اور آپ کی سزا سے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہوں اِس لئے میں نے آ پ کی بات کا جواب نہ دیا حضرت علی ؓ کو اس لڑکے کا یہ جواب پسند آیا تو آپ نے اسے آزاد کر دیا۔وہ کہتے ہیں یہ واقعہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہمَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ عنایات اور عفو کا سلوک بھی انسان کو گناہوں پر دلیر کردیتا ہے اگر یہ محض ذوقی بات ہے واقعہ بڑا عمدہ ہے مگر اس کا مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ والی آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس لڑکے نے جب دیکھا کہ حضرت علیؓ اب مجھ پر ناراض ہوں گے تو اُس نے یہ لطیفہ بنا لیا جو حضرت علیؓ کو پسند آگیا۔اس سے یہ کس طرح معلوم ہو گیا کہ زیر بحث آیت میں بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔یہ محض ذوقی باتیں ہیں سعدی نے لکھا ہے کہ ع پادشاہاں گاہے بسلامے برنجندد گاہے بہ دشنام خلعت دہند (گلستان سعدی صفحہ ۴۹۔۵۰ )