تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 373

مختلف ممالک میں پھیلا دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں جب مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو ان کا فرض ہے کہ وہ ان لاشوں کو پھر قبروں میں دفن کر دیں کیونکہ یہ بڑی گندی بات ہے کہ لاشیں نکال نکال کر لوگوں کے سامنے رکھی جائیں اور ان کی تحقیر و تذلیل کی جائے۔فرعونِ مصر کی لاش کو بھی وہ اِسی طرح زمین میں دفن کر دیںاور اس پر ایک کتبہ لگا کر لکھ دیا جائے کہ یہاں فرعون مصر کی لاش دفن ہے۔قبر کا لفظ چونکہ عام دفن شدہ چیزوں کے لئے بھی بولا جا سکتا ہے اس لئے اس کے ایک یہ معنی بھی ہیں کہ اس زمانہ میں پُرانے شہر زمین میں سے نکالے جائیں گے چنانچہ اب اُن کے دفینے نکال نکال کر مختلف عجائب گھروں میں تقسیم ہو رہے ہیں اسی طرح اس کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ پُرانے کتب خانے باہر آجائیں گے اور پُرانی عمارات اور قبرستانوں کا پتہ لگ جائے گا۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ۰۰۶ وہ بڑی (خطا کار) جان (جس کا یہاں ذکر ہے) جان لے گی۔کہ کیا (کچھ) اُس نے آگےبھیجا ہے۔اور کیا (کچھ) پیچھے چھوڑا ہے۔تفسیر۔یہاں اللہ تعالیٰ نے عَلِمَتْ کُلُّ نَفْسٍ نہیں فرمایا بلکہ عَلِمَتْ نَفْسٌ فرمایا ہے۔ایسا کیوں فرمایا؟ اس کے متعلّق بعض مفسّرین کہتے ہیں کہ دوسری جگہ کُلُّ نَفْسٍ آگیا ہے اس لئے اس جگہ کُلُّ کا لفظ چھوڑ دیا گیا ہے وہ دوسری جگہ یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍمُّحْضَرًا (آل عمران :۳۱)یعنی اُس دن سے ڈرو جس دن ہر شخص جو کچھ نیکی اس نے کی ہو گی اسے اپنے سامنے موجود پائے گا۔اور جو بدی اس نے کی ہو گی اسے بھی پس مفسّرین کہتے ہیں کہ چونکہ اس جگہ کُلُّ نَفْسٍ کا ذکر آ گیا ہے اس لئے اس آیت میں صرف نَفْسٌ کہا گیا ہے کُلُّ نَفْسٍ نہیں کہا گیا میں تو یہ نہیں کہتاکہ قرآن کریم میں ایسا طریق تسلیم نہیں کیا جا سکتا اگر ایک جگہ صرف اشارہ ہو اور دوسری جگہ تفصیلًا ذکر ہو تو ایسا درست ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی میںاُن کے استدلال کو درست تسلیم نہیں کر سکتا۔عَلِمَتْ نَفْسٌ میں نکرہ کا استعمال برائے حقارت میرے نزدیک یہاں تنوین تحقیر کی ہے یعنی یہ نَفْس جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے یعنی نفس عیسائیت۔یہ ذلیل جان (جو اپنا بُرا بھلا بھی نہیں سمجھتی یا یہ بھی نہیں سمجھتی کہ کس کام کو کرنا چاہیے تھا اور کس کام کو نہیں کرنا چاہیے تھا) جان لے گی اُس کو جو اس نے آگے بھیجا تھا اور جو کچھ اُس نے