تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 356
تمہاری ایک ایک بات کا جواب دیا جائے گا اور ثابت کیا جائے گا کہ تمہارے اعتراضات محض غلط ہیں اصل تعلیم وہی ہے جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے پیش کی جا رہی ہے۔اور جب کہ کوئی بات بھی اس کلام میں ایسی نہیں جو خدا کی طرف منسوب نہ ہو سکتی ہویا لوگوں کے اعتراضات کے ڈر سے اُسے چھپانے کی ضرورت محسوس ہو۔تویہ چیز اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔یہ صادق اور کاذب مدعی نبوت میں امتیاز کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔عام طور پر ہر مدعی کاذب اپنی تعلیم میں کسی حد تک ضرور اخفا سے کام لیتا ہے مگر صادق مدعیٔ نبوت جو کچھ کہتا ہے علی الا علان کہتا ہے۔ڈنکے کی چوٹ کہتا ہے۔اور کسی اعتراض کی پروا نہیں کرتا۔اسی طرح شیطانی جماعتوں میں قوتِ اقدام نہیںہوتی۔کوئی ایسی سکیم اُن کے سامنے نہیں ہوتی جس پر عمل کر کے وہ ترقی کی امید کر سکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی ترقی کے لئے غیر معمولی سامان بھی پیدا کردیاکر تا ہے مگر بہرحال جماعتی تدابیر کا بھی بہت کچھ دخل ہوتا ہے۔وہ کُنْ کہہ کر اپنے نبی کے ماننے والوں کو دنیا پر غالب نہیں کر دیا کرتا بلکہ کئی قسم کی دنیوی تدابیر سے کام لیتا ہے گویا تقدیر اور تدبیر دونوں کا ایک چکّر ہے جو چلتا چلا جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِــرِیْنَ (آل عمران:۵۵) کہ کفار نے بھی تدابیر سے کام لیااور اللہ نے بھی تدابیر سے کام لیااور آخر خدا پنی تدابیر میں غالب آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی سلسلوں کی کامیابی میں بھی تدبیر کا دخل ہوتا ہے گو تدبیر اور تقدیر دونوں کی باگ ڈور خدا کے ہاتھ میںہوتی ہے اور اُسی کی مشیّت کا دنیا میںنفاذ ہوتا ہے۔مگر الٰہی جماعتوں کا یہ اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ ترقی کی تدابیر اختیار کریں اور ایسی سکیمیں سوچیں جو اُن کے قدم کو آگے کی طرف بڑھانے والی ہوں۔ہماری جماعت کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہر فرد کے اندرایسی قوتِ اقدام رکھ دی ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ جماعت ایک دن دنیا کوکھا جائے گی۔’’زمیندار‘‘ جیسے اشد معاند اخبار نے بھی ایک دفعہ لکھاتھا کہ ’’میری آنکھیں یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہیں کہ وہ لوگ جو کینٹ اور ہیگل کے فلسفہ تک کو خاطر میں نہیں لاتے وہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں میں شامل ہوتے جاتے ہیں‘‘ (زمیندار ۹؍اکتوبر۱۹۳۲ء ) اُس کا یہ اقرار درحقیقت اعلان تھا اس امر کا کہ وُہ بھی محسوس کر رہا ہے کہ جماعت احمدیہ دنیا پر چھا جائے گی۔پھر سچے مدعی کی تعلیم میں کوئی اخفا نہیںہوتا۔وہ کھلم کھلا اپنی باتوں کو پیش کرتا اور ساری دنیا کو پکار کر کہتا ہے کہ اگر تم نے کوئی اعتراض کرنا ہے تو آئو اور اعتراض کرو مَیں اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں شیطان رجیم میں یہ جرأت کہاں ہو سکتی ہے وہ تو کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کی نگاہ سے چُھپے اور خنّاس بن کر مخفی رہے۔اسی طرح سچے مدعی کی