تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 355

حکومت ہمیں ملے گی اور جب اُن کے ایک مرید نے کہا کہ مجھے کیا ملے گا تو اُسے کہا گیا کہ پنجاب کی بادشاہت۔بلکہ ہمت بلند سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہوتی ہے کہ اُن کی طرف سے دنیا کو فتح کرنے کے ذرائع عمل میں لائے جا رہے ہیں اور وہ اس غلبہ کے لئے معقول جدو جہد کر رہے ہیں۔پس سچے مدعی کی دوسری علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کی جماعت میں رجم نہیں پایا جاتا بلکہ اقدام پایا جاتا ہے۔رجم کے معنے ہیں بھاگنا۔جس پر پتھرائو ہوتا ہے وہ اس سے بچنے کے لئے بھاگتا ہے۔مگر صادق مدعی کی جماعت دشمنوں سے بھاگا نہیں کرتی بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے وہ حملہ کر کے اُن کو کھا جانے کی کوشش کر رہی ہے۔تیسریؔ بات اس کے اندر یہ بتائی گئی ہے کہ جس پر پتھرائو ہووہ سامنے نہیں آتا بلکہ اِدھر اُدھر چُھپتا پھرتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مومنوں سے فرماتا ہے کہ وہ خَنَّاس کے وسوسوں سے بچنے کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہا کریں اور خنّاس وہی ہوتا ہے اَلَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ جو لوگوں کے سینوںمیں وسوسے پیدا کرتا اور خود چھپ جاتا ہے اِسی مناسبت سے ان آیات میں خُنَّس کا ذکر کیا گیا ہے۔مگر انبیاء کی جماعتوں میں کوئی اخفا نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کو لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے اس تعلیم پر جو جواعتراض کرنا ہے وہ بے شک کر لو مگر دوسروں میں یہ ہمت نہیں ہوتی۔وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اُن کی تعلیم کا لوگوں کو علم نہ ہو۔جیسے بہائی ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے مذہب کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ کبھی سپاہی بھی لوگوں سے چھپتا ہے۔سپاہی تو وردی پہن کر لوگوں کے سامنے پھرتا ہے مگرچور اِدھر اُدھر چھپتا پھرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کوئی اُسے دیکھ نہ لے۔پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں وہ اپنی کسی بات کو چھپاتے نہیں۔بلکہ علی الاعلان لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے عقائد ہیں۔ان باتوں پر ہمارا ایمان ہے اور یہ یہ ہماری شریعت کے احکام ہیں۔اگر تمہیں ان پر کوئی اعتراض ہے تو بے شک کر لو۔مگر جھوٹے لوگ اپنے مذہب اور اس کی تعلیم کو کسی نہ کسی رنگ میں ضرور چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس فرماتا ہے وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ یہ شیطان رجیم کا قول نہیں اگر شیطان رجیم کا قول ہوتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ضرور چھپاتے مگر اُسے تو ہم نے حکم دیا ہوا ہے کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (الحجر:۹۵)کہ اے نبی جس چیز کے ظاہر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اُسے ظاہر کرو۔اور بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ (المائدة:۶۸) کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو تم لوگوں تک پہنچا دو۔اور جب کوئی بات تم سے نہیں چھپائی جاتی تو یہ شیطان رجیم کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے؟ تم بے شک اعتراض کر لو۔اس تعلیم کے متعلق جو کچھ کہنا چاہتے ہوکھلے طور پر کہہ لو