تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 347

پڑھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو چٹھیاں بھجوا دیں تھیں۔تو اس میں کون سی عجیب بات ہو گئی۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اُس زمانہ میں بادشاہوں کو چٹھی لکھنا بڑی خطرناک بات ہوا کرتی تھی اور بادشاہ بعض دفعہ ناراض ہو کر چٹھی بھجوانے والے کو مروا دیا کرتے تھے۔لیکن آج کل کا زمانہ اور ہے۔اب اگر روزانہ بھی چٹھیاں لکھی جائیں تو کوئی اہم بات نہیں سمجھی جا سکتی۔پھر اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے خطوط جب مختلف بادشاہوں کو پہنچے تھے تو انہوں نے ان خطوط کا لکھنا ایک معمولی بات سمجھی تھی۔یا اس کا ان کے قلوب پر خاص اثر ہوا تھا تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا خط قیصر کو پہنچا تو اس نے ابو سفیان کو بلایا۔اور اس سے کئی باتیں دریافت کیں۔جب سب باتیں دریافت کر چکا تو ابو سفیان کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ لَقَدْ اَمِرَ اَمْرُ ابْنِ اَبِیْ کَبْشَةَ اِنَّہُ یَخَافُہُ مَلِکُ بَنِی الْاَصْفَرِ (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ )کہ اس شخص کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے کہ رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے خوف کھاتا ہے اسی طرح قیصر کو جبکہ وہ شام پر اپنی فوجیں لے کر آیا ہوا تھا۔یہ لکھنا کہ اگر تو ایمان نہیں لائے گاتو اِنَّ عَلَیْکَ اِثْمُ الْاَرِیْسِیِّیْنَ (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ) یعنی تیرے ماتحت جس قدر لوگ ہیں ان سب کا گناہ تیرے سر پر ہو گا بتا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خط یہ جانتے ہوئے لکھا تھا کہ ممکن ہے وہ فوج لے کر ہم پر چڑھائی کر دے۔اور ممکن ہے وہ مجھے مارنے کا فیصلہ کر ے۔مگر آپ نے اس بات کی کوئی پروا نہ کی۔اور بڑے بڑے بادشاہوں کو کھلے طور پر سنا دیا کہ اگر تم ایمان لائو گے تو اس میں تمہارا فائدہ ہے اور اگر انکار کرو گے تو خدا تعالیٰ کے حضور ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑے ہو گے۔تو فرماتا ہے آج محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کوحقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔لیکن عنقریب تم دیکھو گے کہ وُہ ذِیْ قُوَّۃٍ ہو جائے گا بڑے بڑے بادشاہ اس کے خوف سے کانپیں گے اور غیر معمولی عظمت اسے حاصل ہو جائے گی۔ذِیْ قُوَّةٍ کہہ کر عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍکہنے کی وجہ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ پھر ذِیْ قُوَّۃٍ ہونے کے بعد تم اس میں ایک زائد بات بھی دیکھو گے۔ذِیْ قُوَّۃٍ ہونے والے عام طور پر دین اور مذہب کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اور وُہ طاقتور ہو کر ضعیفوں کے حقوق غصب کر لیتے ہیں مگر فرمایا یہ ایسا نہیں ہو گا۔دراصل مکہ والوں کے دلوں میں بھی وہی شبہ تھا۔جو یورپ والوں کو پیدا ہوا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم بڑائی حاصل کرنے یا بادشاہت اور حکومت اپنے قبضہ میں لینے کے لئے سب کچھ کر رہے ہیں۔اسی لئے انہوں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام بھجوایا تھا کہ اگرآپ دولت چاہتے ہیں تو ہم اتنی دولت آپ کے