تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 346

میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے آج کل اور زمانہ ہے۔آج کل بادشاہوں کے پاس خط جائیں تو وہ اُن کو پڑھ کر اسی وقت پھینک دیں گے اور پروا بھی نہیں کریں گے۔کہ کس نے کیا لکھا ہے۔مگر اس وقت بڑے بڑے جابر بادشاہ تھے اور ان کو خط لکھنا کسی معمولی انسان کا کام نہیں ہو سکتا تھا۔چنانچہ کسریٰ نے جب یہ خط پڑھا تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔اسے اپنی ہتک محسوس ہوئی۔اور اس نے نہایت غصہ کا اظہار کیا(تاریخ طبری زیر عنوان ذکر خروج رسل رسول اللہ الی الملوک)۔آج کل قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس زمانہ میں بادشاہوں کو خط لکھنا کتنا مشکل کام تھا۔کیونکہ اب زمانہ اور ہے آج جو شخص چاہے بادشاہوں کو خط لکھ سکتا ہے۔بلکہ جنگ سے پہلے اگر کوئی ہٹلر،میسولینی یا روزویلٹ کو خط لکھنا چاہتا تو آسانی سے لکھ سکتا تھا۔مگر وہ زمانہ ایسانہیں تھا اس زمانہ میں بادشاہوں کو کسی معمولی آدمی کا خط لکھنا اپنی موت کو خود بلانے کے مترادف تھا۔اصل بات یہ ہے کہ حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت دفعہ دھوکا لگ جاتا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اسی بات پر بہت فخر کیا کرتے تھے کہ میں وائسرائے کو خط لکھتا ہوں تو وُہ میرے خط کا جو اب دے دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اس میں کون سی بڑی بات ہے۔اُسے تو اگر ایک چوڑھا بھی خط لکھے تو وہ جواب دےدےگا ڈئیر سَرDEAR SIR! مخصوص الفاظ ہیں جو ہر خط پر لکھے جاتے ہیں۔پڑھنے والا سمجھتا ہے کہ میری بڑی عزت ہو گئی حالانکہ یہ عام الفاظ ہوتے ہیں مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس دھوکہ میں رہے کہ وائسرائے مجھے خط لکھتے ہیں تو مہربانِ من کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔حالانکہ ان کے ہاں اس کے سوا اور کوئی لفظ ہی نہیں۔وُہ ایک چوڑھے کو بھی خط لکھیں گے تو اوپر یہی الفاظ لکھیں گے۔ڈپٹی کمشنر کو لکھیں گے تو اُسے بھی یہی لکھیں گے تو بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن سے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔اسی رنگ کی ایک اور مثال مجھے یاد آگئی۔مَیں نے ایک دفعہ ایک احمدی کو دیکھا کہ وہ دُوسرے سے بحث کر رہا تھا۔کہ کیا تم نے مجھے کبھی جھوٹ بولتے دیکھا۔اور اس کے متعلق وُہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس:۱۷ )کو بار بار پیش کرتا کہ مَیں تم میں اتنا عرصہ رہا ہوں۔کیا تم نے مجھے جھوٹ یا فریب سے کام لیتے دیکھا۔حالانکہ یہ استدلال اس کے لئے ہوتا ہے جو قوم کے سامنے آچکا ہوتا ہے۔نہ کہ جو شخص اٹھے اس سے اپنی صداقت کا استدلال کرناشروع کر دے۔جوشخص قوم کی نظروں کے سامنے آ جائے۔اس کے لئے بے شک یہ دلیل ہے لیکن دوسرے کے لئے نہیں۔آنحضرت صلعم کے ذِیْ قُوَّةٍ اور ذِی الْعَرْش مکین ہونے کا ایک نظارہ اسی طرح کسی بڑے آدمی کو چٹھی بھیج دینے کی اہمیت موجودہ زمانے میں نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان جب ان باتوں کو