تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 333
زبان میں بھی کہتے ہیں کہ تم تو بال کی کھال اتارتے ہوجس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم تو بہت باریکیاں نکالتے ہو۔چنانچہ اس زمانہ میں علمِ ہیئت میں خیال ووہم سے بھی زیادہ ترقی ہوئی ہے اور سیرِ نجوم اور وسعتِ عالم اور خلقِ عالم اور اجرامِ فلکی وغیر ہ کے بارہ میں غیر معمولی علوم کا اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ ہزاروں سال میں بھی نہ ہوا تھا۔آج سے سو ڈیڑھ سو سال سےپہلے جو مہندس اور حساب دان تھے وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تھےکہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی کیا سے کیا ہو جائے گا پہلے زمانہ میں زیادہ سے زیادہ دو تین فٹ قطر کی دُوربینیں ہوتی تھیں مگر اب امریکہ میں ایک سو فٹ قطر کی دُوربین ایجاد کی گئی ہے۔قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ دُوربین کا جتناقطر بڑھتا جاتا ہے اُتنی ہی اس کی طاقت بڑھتی چلی جاتی ہے کہتے ہیں کہ اِ س دُوربین پر ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا ہے ہر شخص غور کر سکتا ہے کہ اتنی بڑی دُوربین کتنے سالوں میں تیار ہوئی ہو گی اور اس کے لئے کس قدر ماہرین ساری دنیا سے جمع کئے گئے ہوں گے۔بہرحال یہ دُور بین تیار ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علمِ ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہو گئی۔دو ستاروں کے باہمی فاصلے کا اندازہ لگانے کے لئے علمِ ہیئت والوں کا طریق یہ ہے کہ وہ رفتارِ نور سے باہمی فاصلے کا اندازہ لگاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نور کی رفتار فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے ایک لاکھ چھیاسی ہزار کو ساٹھ سے ضرب دیں گے تو ایک منٹ کی رفتار نکل آئے گی پھر ساٹھ سے ضرب دیں گے تو ایک گھنٹہ کی رفتار نکل آئے گی پھراُسے چوبیس سے ضرب دیں تو ایک دن کی رفتار نکل آئے گی اور پھر اُسے تین سو ساٹھ سے ضرب دیں گےتو ایک سال کی رفتار نکل آئے گی۔اس بنیاد پر جب وہ ایک ستارے کا دوسرے ستارہ سے فاصلہ بتانا چاہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ ستارہ اتنے میل دُور ہے بلکہ کہیںگے کہ وہ بیس سالِ نوری کے فاصلہ پر ہے یا ایک ہزار سالِ نوری کے فاصلہ پر ہے مطلب یہ کہ ایک سالِ نوری کا جس قدر فاصلہ بنتا ہے اُسے اُتنے سالوں سے ضرب دے لو اور پھر خود ہی اندازہ لگا لو کہ ان میں کتنا فاصلہ ہے۔پس دُوربینوں کی ایجاد کے ذریعہ ایک تو سَیر نجوم میں بہت بڑی ترقی ہوئی ہے پھر اس سے وسعتِ عالم کے متعلق سابقہ علوم میں بھی بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے۔گزشتہ زمانے کا ذکر تو جانے دو جنگِ عظیم سے پہلے ہئیت دان دو ہزار سالِ نوری عالم کی وسعت سمجھتے تھے مگر پچھلی جنگ کے خاتمہ پر انہوں نے اعلان کیا کہ یہ عالم بارہ ہزار سالِ نوری تک پھیلا ہوا ہے اور اب کہتے ہیں کہ اس عالم میں اتنی وسعت ہے کہ ہم اس کا اندازہ لگانے سے قطعی طور پر قاصر ہیں۔اور جو لوگ کچھ اندازے بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چھتیس یا چالیس ہزارسال نوری تک یہ عالم پھیل گیا ہے۔اور اب جب کہ میں اس نوٹ کی نظر ثانی کر رہا ہوں پہلے سے بھی اور فاصلہ کے ستاروں کا پتہ لگنے کا اعلان ہوا ہے۔