تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 332
ان کو بھی کھود کھود کر نکال رہے ہیں اور لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔اسی طرح مصر میں فرعون موسیٰ سے پہلے کے آثار نکال کر ان کو پڑھا جا رہا ہے۔مصریوںکی پُرانی زبان جو ہیلو گرافی کہلاتی تھی بالکل مٹ گئی تھی۔مگر آثار قدیمہ والوں نے اپنی عمریں صرف کر کے آخر اس زبان کا پتہ لگا لیا۔چنانچہ وہ ان آثار کو پڑھ کر یہ بتا دیتے ہیں کہ موسیٰ ؑ سے دو ہزار سال پہلے یہ ہوا اور تین ہزار سال پہلے یہ ہوا(The Encyclopedia Britanica Hieroglyphic writing)۔غرض مُردہ صحیفے اس زمانہ میں زندہ کئے جا رہے ہیں اور اِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ کی پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہو رہی ہے۔وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ۰۰۱۲ اور جب آسمان کی کھال اُتار ی جائے گی۔حَلّ لُغَات۔کُشِطَتْ کُشِطَتْ کَشَطَ سے مجہول کا مؤنث کا صیغہ ہے اور کَشَطَ کے معنے ہوتے ہیں رَفَعَ شَیْئًا عَنْ شَیْءٍ قَدْ غَشَّاہُ وَنَحَّاہُ۔کسی چیز کو دوسری چیز پر سے اٹھانا جس نے اس کو ڈھانکا ہوا ہو۔کَشَطَ الْجُلَّ عَنِ الْفَرَسِ وَالْغِطَاءَ عَنِ الشَّیْئِ کے معنے ہوتے ہیں قَلَعَہُ وَنَزَعَہُ وَکَشَفَہُ عَنْہُ یعنی جھول کو گھوڑے پر سے یا کسی اور چیز سے اُتارا یا کسی چیز کو اکھیڑ دیااور کَشَطَ الْبَعِیْرَ کے معنے ہوتے ہیں نَزَعَ جِلْدَہُ۔اُس کی جلد کوکھینچ کر اُتارا (اقرب) چنانچہ عربی زبان میں سَلْخُ البَعِیْرِ نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں کَشْطُ الْبَعِیْرِ یعنی سَلَخَ کا لفظ بکری کے متعلق استعمال ہوتا ہے اُونٹ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا۔پس وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ کے معنے ہوں گے جب آسمان کی کھال کھینچی جائے گی (۲)آسمان کا پردہ اُتارا جائے گا۔تفسیر۔اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ میں آسمان سے مراد چونکہ آسمانی علوم بھی لئے جا سکتے ہیں اس لئے اس آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ آسمانی علوم پر سے پردے اُٹھا دئے جائیں گے یعنی اُس وقت آسمانی علوم دب گئے ہوں گے اور اُن پر پردے پڑ چکے ہوں گے تب اللہ تعالیٰ ایک ایسے آدمی کو مبعوث کر ے گا جو آسمانی علوم کو کھول کر رکھ دے گا اور قرآن کریم کے وہ اسرار جو چھپے ہوئے تھے یا احادیث کے وہ علوم جو مخفی چلے آتے تھے اُن سب کو ظاہر کر دے گا۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ آسمان کی کھال کھینچی جائے گی یعنی علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہو گی۔ہماری